لاہور(پنجاب پوسٹ)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے میں شامل کسی ایک فریق پر حملے کی صورت میں تینوں ممالک باہمی مشاورت سے لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔ عرب ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ دفاعی وعدوں پر عمل درآمد کا طریقہ کار عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا کیونکہ فوجی کارروائیوں اور سکیورٹی سے متعلق معلومات خفیہ ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق مکہ معاہدہ دفاعی تعاون پر مبنی ہے اور اس میں کوئی جارحانہ پہلو نہیں، جبکہ اس کا مقصد خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہیں اور پاکستان کسی اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں۔
افغانستان کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے اور اس کے کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں ہیں.











