"جماعت اسلامی پنجاب کے سکولوں کی آؤٹ سورسنگ پر احتجاج کر رہی ہے جبکہ اسکی اپنی این جی اوز سکول لے رہی ہے”، رانا سکندر حیات

لاہور (پنجاب پوسٹ) صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے نویں جماعت کے امتحانات کے نتائج، نواز شریف اسکولز اور اسکول آؤٹ سورسنگ پر تنقید کی، تاہم جماعت اسلامی کی اپنی فاؤنڈیشن آؤٹ سورس اسکولز وصول کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آؤٹ سورسنگ کے بعد اسکولوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ پنجاب میں 13 ہزار اسکولز آؤٹ سورس کیے جا چکے ہیں، آؤٹ سورس اسکولز میں تعلیم اور کتابیں مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ آؤٹ سورس اسکولز میں طلبہ کی تعداد ایک سال میں 5 لاکھ 50 ہزار سے بڑھ کر 10 لاکھ 16 ہزار ہوگئی، جبکہ ایک سال میں داخلوں میں 121 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق آؤٹ سورس اسکولز میں اساتذہ کی تعداد 16 ہزار 406 سے بڑھ کر 83 ہزار ہوگئی ہے، آؤٹ سورس اسکولز کا مجموعی رزلٹ 81 فیصد رہا جبکہ 42 فیصد طلبہ نے اے اور اے پلس گریڈ حاصل کیے۔ سرکاری اسکولز کا دسویں جماعت کا رزلٹ 73 فیصد جبکہ آؤٹ سورس اسکولز کا 81 فیصد رہا، یوں آؤٹ سورس اسکولز نے دسویں جماعت کے نتائج میں سرکاری اسکولز سے 8 فیصد بہتر کارکردگی دکھائی۔ نویں جماعت میں بھی آؤٹ سورس اسکولز کا رزلٹ سرکاری اسکولز سے 11 فیصد بہتر رہا۔

انہوں نے کہا کہ بہتر نتائج دینے والے پی ای ایف پارٹنرز کو فی طالبعلم سبسڈی میں اضافہ دیا جائے گا۔ اسکولز آف ایمننس میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس لیبز قائم کی جا رہی ہیں، جبکہ ان اسکولز میں 30 فیصد اخراجات کی بچت کا ہدف ہے۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ خراب نتائج دینے والے اسکولز کے عملے کو متعدد نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں اور مسلسل خراب کارکردگی پر اسکول اسٹاف کے خلاف کارروائی ہوگی۔ کیا ایک استاد ایک سال تک ڈیوٹی سے غیر حاضر رہ کر نظام چلا سکتا ہے؟ ہر اسکول، تحصیل اور ضلع کی سطح پر نتائج کا احتساب ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہر اسکول کے نتائج کا ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیہ کیا جا رہا ہے اور ہر تحصیل و ضلع کے نتائج کی بنیاد پر جوابدہی کا نظام بنایا جا رہا ہے۔ 2200 ایسے سرکاری اسکولز کی نشاندہی کی گئی ہے جن کا رزلٹ 20 فیصد یا اس سے کم ہے۔ مسلسل خراب رزلٹ دینے والے اسکولز میں اساتذہ کا احتساب کیا جائے گا، جبکہ 20 فیصد سے کم رزلٹ دینے والے اساتذہ کو ملازمت سے ہٹایا جائے گا۔

صوبائی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ اساتذہ کے خلاف طویل انکوائریز نہیں ہوں گی، کم رزلٹ پر براہ راست کارروائی ہوگی۔ تین سے پانچ سال مسلسل خراب رزلٹ دینے والے استاد کو عہدے پر رہنے کا حق نہیں۔ 2200 اسکولز کی خراب کارکردگی پورے پنجاب کے تعلیمی نتائج کو متاثر کر رہی ہے، اچھے نتائج دینے والے اساتذہ کو انعام اور خراب نتائج دینے والوں کا احتساب ہوگا۔

رانا سکندر حیات نے بتایا کہ اسکول ٹیچنگ انٹرنز کے ذریعے اساتذہ کی کمی پوری کی جا رہی ہے اور 25 ہزار اسکول ٹیچنگ انٹرنز تعینات کیے گئے ہیں۔ کمزور اسکولز میں سبجیکٹ اسپیشلسٹ اسکول ٹیچنگ انٹرنز تعینات کیے جائیں گے، جبکہ اعلیٰ کارکردگی والے اساتذہ کو بھی انعام دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اچھے اساتذہ بھی موجود ہیں، تاہم خراب کارکردگی والے اساتذہ کا احتساب ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے سال نویں جماعت کے نتائج میں 6 سے 8 فیصد بہتری متوقع ہے اور اگلے سال نویں جماعت کے نتائج میں نمایاں بہتری نظر آئے گی۔ آٹھویں جماعت کا رزلٹ 87 فیصد آیا ہے۔ نویں جماعت میں کمزور بچوں کی نشاندہی کر کے ان پر خصوصی محنت کی جائے گی۔

صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق پنجاب میں پہلی سے پانچویں جماعت کا نیا نصاب رواں سال نافذ کیا جائے گا، نئے نصاب میں مصنوعی ذہانت سمیت جدید تعلیم پر توجہ دی گئی ہے۔ پانچویں جماعت کا امتحان دوبارہ متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کا مقصد بچوں کو فیل کرنا نہیں بلکہ تعلیمی کمزوریوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ پنجاب میں امتحانات میں نقل کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا اور امتحانات میں شفافیت کے لیے 15 بورڈز میں اقدامات کیے گئے۔ آٹھویں جماعت کے 48 لاکھ بچوں کی آن اسکرین مارکنگ کی گئی، جبکہ پہلی بار آٹھویں جماعت کی مارکنگ اے آئی کے ذریعے آن اسکرین کی گئی۔ پیپر سیٹنگ، چیکنگ اور عملی امتحانات کا نظام مزید شفاف بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پنجاب کے ماڈل کو دیکھتے ہوئے تقریباً 700 اسکولز آؤٹ سورس کر رہا ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ پنجاب میں شرح خواندگی 67 سے بڑھ کر 69 فیصد ہوگئی ہے جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں شرح خواندگی 58 فیصد ہے۔ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں 12 لاکھ بچوں کو روزانہ غذائیت فراہم کی جا رہی ہے۔

رانا سکندر حیات نے سرکاری کالجز کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا کہ سرکاری کالجز میں طلبہ کا داخلہ 2 لاکھ 7 ہزار سے بڑھ کر ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گیا ہے۔ سرکاری کالجز میں داخلوں میں اضافے کی بڑی وجہ مستقل پرنسپلز کی تعیناتی ہے۔ ساڑھے آٹھ سو میں سے ساڑھے پانچ سو سرکاری کالجز میں مستقل پرنسپلز تعینات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 200 سرکاری کالجز میں 30 سے 50 کمپیوٹرز پر مشتمل جدید لیبز قائم کی گئی ہیں جبکہ کالجز میں ہر ماہ امتحانات کا نظام شروع کیا گیا ہے۔

رانا سکندر حیات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں داخلے 12 ہزار سے بڑھ کر 16 ہزار ہوگئے، یو ایم ٹی میں داخلے 12 ہزار سے بڑھ کر 19 ہزار ہوگئے، کمالیہ یونیورسٹی میں داخلے 400 سے بڑھ کر 2600 ہوگئے، ویٹرنری یونیورسٹی لاہور میں داخلے 550 سے بڑھ کر 3200 ہوگئے جبکہ غازی یونیورسٹی ڈی جی خان میں داخلے 4200 سے بڑھ کر 9 ہزار کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری جامعات میں داخلوں میں مجموعی طور پر نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ ٹائمز رینکنگ میں پنجاب کی جامعات نے نمایاں پوزیشنز حاصل کی ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے