سیالکوٹ ویمن یونیورسٹی کی 120 ایکڑ زمین لیکر ڈپٹی کمشنر 11 ہزار طالبات کا مستقبل خراب کر رہے ہیں: طالبات نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب حکومت کی جانب سے ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی اراضی انتظامی دفاتر کیلئے ایکوائر کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

جسٹس جاوید اقبال وینس نے طالبہ ایمن سمیت دیگر کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر حفیظ سعید اختر نے دلائل دیئے اور اس میں حکومت پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

موقف اختیار کیا گیا کہ 200 ایکڑ پر مشتمل سیالکوٹ ویمن یونیورسٹی میں 11 ہزار سے زائد طالبات زیر تعلیم ہیں۔ یونیورسٹی میں 62 ڈگری پروگرام چل رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے سرکاری دفاتر کیلئے 120 ایکڑ اراضی واپسی کیلئے خط لکھا۔ یونیورسٹی بلاکس، ریسرچ سینٹرز ودیگر مقاصد کیلئے 141 ایکڑ اراضی استعمال کی جاچکی ہے۔ عدالت نے سیکرٹری کالونیز اور سیکرٹری ایچ ای سی سے رپورٹ طلب کرلی اور متعلقہ حکام کو رپورٹ سمیت 14 ستمبر کو طلب کرلیا۔

یونیورسٹی نے نئے اکیڈمک بلاکس کی وجہ سے اراضی دینے سے انکار کردیا۔ آنیوالے چند سالوں میں طالبات کی تعداد 25 ہزار سے بھی بڑھ جائے گی۔ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ تعلیمی مقاصد کیلئے لی گئی اراضی واپس نہیں لی جاسکتی

18 پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد 2500 ایکڑ جبکہ سب سے کم رقبے 200 ایکڑ پر یو ای ٹی نارووال کیمپس مشتمل ہے۔

16 مارچ کو صوبائی کابینہ کی 120 ایکڑ ایکوائر کرنے کی منظوری کے بعد انتظامیہ کسی بھی وقت یونیورسٹی کی اراضی پر قبضہ کر سکتی ہے،

عدالتی استدعا کے مطابق صوبائی کابینہ کا انتظامی دفاتر کیلئے اراضی ایکوائر کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور ویمن یونیورسٹی کی اراضی پر انتظامیہ کو قبضہ سے روکے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے