لاہور: شی ڈرائیوز (She Drives) نے سٹی ٹریفک پولیس لاہور کے تعاون سے خصوصی ’’ویمن آن وہیلز‘‘ ایونٹ کا انعقاد کیا، جس کا مقصد خواتین کے لیے محفوظ نقل و حرکت، خودمختاری اور معاشی سرگرمیوں میں ان کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو فروغ دینا تھا۔
تقریب میں نمایاں سیاسی، تعلیمی اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی، جن میں ایم پی اے ملک شہباز کھوکھر، ایم پی اے سمبل ملک، ایم پی اے ثمیہ عطا شاہانی، وائس چانسلر لیڈز یونیورسٹی ڈاکٹر ندیم بھٹی اور سیریل انٹرپرینیور عدیل گوندل شامل تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے شی ڈرائیوز کی جانب سے کیے جانے والے اس اقدام کو سراہا اور خواتین کے لیے محفوظ، قابلِ اعتماد اور آزادانہ سفری سہولیات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ نقل و حرکت خواتین کی تعلیم، روزگار، کاروبار، انٹرپرینیورشپ اور مجموعی طور پر ملکی معیشت میں فعال کردار کے لیے نہایت ضروری ہے۔
تقریب کے دوران 300 سے زائد خواتین اسکوٹی رائیڈرز کو ان کے اعتماد اور خودمختار نقل و حرکت کی جانب مثبت قدم اٹھانے پر سراہا گیا۔ ان خواتین کو دیگر خواتین کے لیے ایک مثبت مثال اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ قرار دیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی ڈرائیوز کے بانی عماز فاروقی نے پلیٹ فارم کے قیام کے مقصد اور وژن پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا:
’’محفوظ نقل و حرکت ہر عورت کا حق ہے۔ روایتی رائیڈ ہیلنگ پلیٹ فارمز پر خواتین کو اکثر مخالف جنس کے ڈرائیورز کے ساتھ سفر کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث کئی خواتین نے بے آرامی اور ہراسانی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔ شی ڈرائیوز خواتین کو خواتین کے ساتھ سفر کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے انہیں زیادہ آرام، تحفظ، وقار اور ذہنی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پلیٹ فارم خواتین کو صرف مسافر کے طور پر سہولت فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ خواتین ڈرائیورز کے لیے آمدن کے مواقع پیدا کرکے انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔
شی ڈرائیوز کے ڈائریکٹر آگاہی و اشتراک، شہزاد روشن گیلانی نے کہا کہ یہ اقدام محض ایک اور رائیڈ ہیلنگ ایپ سے کہیں بڑھ کر ہے۔

انہوں نے کہا:
’’ہم صرف ایک ایپ کی بات نہیں کر رہے بلکہ خواتین کے لیے ایک مکمل ایکو سسٹم تشکیل دے رہے ہیں۔ پاکستان کی معیشت میں خواتین کی شرکت انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کی آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ خواتین پر مشتمل ہے، اس لیے انہیں محفوظ اور آزادانہ نقل و حرکت کے مواقع فراہم کرنا ملکی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ محفوظ نقل و حرکت کوئی عیاشی نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔‘‘
مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’’ویمن آن وہیلز‘‘ جیسے اقدامات معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی لانے، زیادہ خواتین کو دو پہیہ گاڑیاں استعمال کرنے، روزگار کے مواقع حاصل کرنے، کاروبار شروع کرنے اور عوامی و معاشی زندگی میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تقریب کا اختتام خواتین کی محفوظ نقل و حرکت، بااختیاری، روڈ سیفٹی اور معاشی شمولیت کے فروغ کے لیے عزم کے ساتھ ہوا۔ شرکاء نے اس مقصد کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مزید مضبوط تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔










