لاہور(پنجاب پوسٹ)پاکستان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GM) مکئی کی کاشت اپنانے کی اصولی منظوری دے دی گئی، جسے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، پیداوار میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایس آئی ایف سی اور گرین پاکستان انیشیٹو کے تعاون سے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، بہتر بیجوں اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ جی ایم مکئی جدید ٹیکنالوجی سے تیار کردہ بیج ہے، جو کیڑوں اور بعض بیماریوں کے خلاف مزاحمت بڑھانے کے ساتھ ساتھ موسمی اثرات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دو دہائیوں سے زائد عرصے کی کوششوں کے بعد ملٹی نیشنل بیج کمپنیوں کو پاکستان میں جی ایم مکئی کی کاشت کے لیے اصولی منظوری حاصل ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ اس حوالے سے منعقدہ کمیٹی اجلاس میں وزیر خزانہ کے ساتھ ایس آئی ایف سی کے گرین پاکستان انیشیٹو کے چیف ایگزیکٹو نے بھی شرکت کی۔
کابینہ کمیٹی نے پاکستان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جی ایم مکئی کی کاشت اپنانے کی اصولی منظوری دی۔ اس پیش رفت کو ملک میں جدید بیج ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور زرعی پیداوار کو بہتر بنانے کے حوالے سے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ مونسانٹو، بائر، کارگل، سِنجینٹا اور کورٹِیوا سمیت عالمی ملٹی نیشنل کمپنیاں 1980 کی دہائی سے پاکستان کی بیج صنعت میں سرگرم ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیاں ہائبرڈ بیجوں کے ذریعے زرعی جدت اور نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کیا 2 لاکھ کسانوں کو گرین ٹریکٹرز مل جائیں گے؟ حکومت سر پکڑ کر بیٹھ گئی
جی ایم مکئی کی منظوری کے بعد جدید بیجوں کے استعمال، زرعی پیداوار میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہتر ہونے کی توقع ہے، جبکہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید فروغ مل سکے گا۔










