لاہور(پنجاب پوسٹ)پنجاب کے شہری علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح کے پیشِ نظر پانی کے بہتر، ذمہ دارانہ اور شفاف استعمال کے لیے سمارٹ واٹر میٹرنگ کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب نورالامین مینگل نے لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں واٹر میٹرنگ کے منصوبے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔واسا حکام کے مطابق صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 15 لاکھ 9 ہزار 288 واٹر میٹرز کی ضرورت ہے، جبکہ 2029 تک لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں 1 لاکھ 50 ہزار 900 واٹر میٹرز نصب کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ہر تحصیل، ضلع اور ڈویژن کے لئے گرین بسوں کی منظوری، آپ کی تحصیل میں گرین بس کب آرہی ہے؟
خودکار واٹر میٹرنگ کے ذریعے پانی کی ریڈنگ کا جدید اور خودکار نظام متعارف کروایا جائے گا، جس سے عملے کی مداخلت ختم اور میٹرنگ کا نظام مزید شفاف بنایا جا سکے گا۔اجلاس میں پنجاب بھر میں زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنانے کے لیے 70 گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز پر جاری کام کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں سے 20 مکمل طور پر فعال ہیں۔
لاہور میں 40، ملتان میں 25 اور فیصل آباد میں 5 گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز کے منصوبے جاری ہیں۔ ریچارج ویلز کے ذریعے سالانہ 11.4 ملین گیلن پانی محفوظ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔سیکرٹری ہاؤسنگ نے گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز کا دائرہ کار مزید بڑھانے اور واٹر میٹرنگ کے ساتھ رین واٹر ہارویسٹنگ کو بھی جامع منصوبے کا حصہ بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں دیگر ممالک میں پانی کی بچت کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ خطے کے دیگر ممالک سے نسبتاً کم قیمت واٹر میٹرز حاصل کرنے پر بھی غور کیا گیا۔واسا حکام کے مطابق 1970 سے 2020 تک لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں سالانہ تقریباً 3 فٹ تک کمی ریکارڈ کی جاتی تھی، تاہم صرف ٹیوب ویلز کے اوقاتِ کار میں تبدیلی سے یہ کمی کم ہو کر تقریباً 1 فٹ سالانہ رہ گئی ہے۔
سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے شہریوں میں پانی کی بچت اور آبی ذخائر کے تحفظ سے متعلق آگاہی بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر نتیجہ خیز منصوبے متعارف کروائے جا رہے ہیں اور صوبہ بھر میں یکساں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔










