لاہور(پنجاب پوسٹ)کراچی میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 18 ماہ کی ننھی آئزل کی والدہ انصاف کے حصول کے لیے لاہور پہنچ گئیں، جہاں انہوں نے پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے لاہور آفس میں چیئرپرسن حنا پرویز بٹ سے ملاقات کی۔ سماجی کارکن علینہ عامر بھی اس موقع پر موجود تھیں۔
ملاقات کے دوران آئزل کی والدہ نے کیس میں ہونے والی پیشرفت، پولیس کی کارروائی اور سندھ حکومت کے رویے سے متعلق حنا پرویز بٹ کو آگاہ کیا۔ والدہ کا کہنا تھا کہ کیس میں تمام شواہد موجود ہونے کے باوجود مقدمہ سست روی کا شکار ہے اور انہیں اپنی بیٹی کے لیے انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
حنا پرویز بٹ نے آئزل کی والدہ سے اظہارِ تعزیت اور ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف گھناؤنے جرائم کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔ بچیوں اور خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جانی چاہیے اور ملوث مجرموں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی نے واضح کیا کہ اگرچہ پنجاب سے باہر اتھارٹی کی براہِ راست عملداری نہیں، تاہم آئزل کی والدہ کو قانونی اور اخلاقی معاونت فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئزل کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن آواز اٹھائی جائے گی۔
آئزل کی والدہ نے حنا پرویز بٹ کی اخلاقی اور عملی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں انہوں نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس بھی کی، جس میں انصاف کے حصول کے لیے معاشرے کے تمام طبقات سے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔










