لاہور(پنجاب پوسٹ) پنجاب میں زیرِ زمین پانی پر انحصار کم کرنے اور متبادل آبی ذرائع کو فروغ دینے کے لیے سال 2029 تک اربن واٹر مینجمنٹ کے جامع منصوبے پر عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ محکمہ ہاؤسنگ پنجاب اور پنجاب واسا کی ٹیکنیکل ٹیم کی جانب سے سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل کو اربن واٹر مینجمنٹ پلان پیش کیا گیا، جس میں ویسٹ اور سرفیس واٹر کو قابلِ استعمال پانی کے اہم متبادل ذرائع بنانے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
منصوبے کے تحت پنجاب میں یومیہ 93 کروڑ گیلن ویسٹ اور سرفیس واٹر کو ٹریٹ کرنے کی پلاننگ اور عملی نفاذ شامل ہے۔ ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق 80 کروڑ گیلن یومیہ صلاحیت کے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی منصوبہ بندی بھی پلان کا حصہ ہے، جبکہ یومیہ 13 کروڑ گیلن شفاف سرفیس واٹر پانی کے نظام میں شامل کیا جائے گا۔
اربن واٹر مینجمنٹ پلان کے تحت قابلِ استعمال سرفیس واٹر کی شرح 6 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں سرفیس واٹر کے استعمال کو مرحلہ وار بڑھایا جائے گا۔
سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے ہدایت کی کہ زیرِ زمین پانی پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل آبی ذرائع کو فروغ دیا جائے اور پانی کے وسائل کے تحفظ کو ترجیح دی جائے۔ ترجمان کے مطابق زیرِ زمین پانی کی گرتی سطح کو روکنے کے لیے متبادل ذرائع سے قابلِ استعمال پانی حاصل کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کا کہنا ہے کہ سال 2029 تک پنجاب میں منظم اربن واٹر مینجمنٹ منصوبوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے، جبکہ منصوبوں کی پلاننگ اور عملی نفاذ بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق سمارٹ اربن واٹر مینجمنٹ کے ذریعے پانی کے وسائل کے مؤثر اور پائیدار استعمال پر زور دیا گیا ہے۔










