پاکپتن ڈی ایچ کیو اسپتال میں آکسیجن نہ ملنے سے 20 بچوں کی اموات،مجرم کوئی بھی نہیں؟سی ای او ہیلتھ اور ایم ایس بری

پاکپتن(پنجاب پوسٹ)ڈی ایچ کیو اسپتال پاکپتن کے بچوں کے وارڈ میں 20 بچوں کی ہلاکت کے کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ عدالت نے کیس میں نامزد سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر سہیل اصغر اور ایم ایس ڈاکٹر عدنان غفار کو بری کردیا۔

یہ اموات 16 سے 22 جون 2025 کے دوران ڈی ایچ کیو اسپتال پاکپتن کے بچوں کے وارڈ میں ہوئی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والے 20 بچوں میں بڑی تعداد نومولود بچوں کی تھی، جبکہ 19 جون کو ایک ہی روز 5 بچوں کی اموات نے معاملے کو مزید تشویشناک بنا دیا تھا۔

بچوں کے لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ اسپتال میں آکسیجن کی دستیابی کا مسئلہ تھا اور بچوں کو بروقت آکسیجن سمیت ضروری طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایک والد کی جانب سے درج مقدمے میں بھی الزام لگایا گیا کہ اس کی نومولود بیٹی آکسیجن اور مناسب علاج نہ ملنے کے باعث جاں بحق ہوئی۔

اس معاملے کی اسپتال کی اندرونی انکوائری میں بھی 16 سے 22 جون کے دوران 20 بچوں کی اموات کی تصدیق کی گئی، تاہم انکوائری رپورٹ میں اموات کو براہِ راست آکسیجن کی کمی یا ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی غفلت سے منسلک نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بیشتر بچے انتہائی تشویشناک حالت میں اسپتال لائے گئے تھے، جبکہ اسپتال کے انتظامی اور دستاویزی نظام میں خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔

پولیس کے مطابق 20 بچوں کی اموات کا مقدمہ 5 جولائی 2025 کو اس وقت درج کیا گیا جب وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی ایچ کیو اسپتال پاکپتن کا دورہ کیا اور شہریوں کی جانب سے اسپتال سے متعلق متعدد شکایات سامنے آئیں۔ پولیس کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر دونوں افسران کو موقع پر گرفتار کیا گیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان کی بریت کی ایک اہم وجہ بچوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹس اور طبی ماہرین کی رائے کا موجود نہ ہونا قرار دیا گیا۔فیصلے میں دوسری اہم وجہ مقدمہ درج کرنے کے لیے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (PHC) کی سفارش کا نہ ہونا بیان کی گئی۔

عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2010 کے تحت کسی ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی سفارش ضروری ہے، جبکہ موجودہ کیس میں ایسی سفارش موجود نہیں تھی۔ عدالت نے انہی وجوہات کی بنیاد پر سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر سہیل اصغر اور ایم ایس ڈاکٹر عدنان غفار کو بری کردیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے