لاہور(پنجاب پوسٹ)وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کی زیر صدارت سُتھرا پنجاب اتھارٹی کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں اتھارٹی کے انتظامی اور مالیاتی معاملات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری بلدیات زید بن مقصود، ڈی جی سُتھرا پنجاب اتھارٹی عمر جاوید، ٹیکنیکل ممبران چودھری جعفر اقبال، علی طارق، سائرہ افتخار اور مظفر اسلام نے شرکت کی، جبکہ تمام ڈویژنل کمشنرز بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔
وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سُتھرا پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز کا فلیگ شپ پراجیکٹ ہے اور آج پورے صوبے میں صفائی ستھرائی کا مربوط نیٹ ورک موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں شہروں میں برائے نام صفائی کا نظام تھا جبکہ دیہات میں سرے سے کوئی نظام موجود نہیں تھا۔
ذیشان رفیق نے کہا کہ کئی دیہات میں آبادکاری کے وقت سے جمع ہونے والا کوڑا کرکٹ بھی وہیں موجود تھا، تاہم سُتھرا پنجاب کے ذریعے صوبے میں صفائی کا جامع نظام قائم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سُتھرا پنجاب کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے، جبکہ فوربز، بی بی سی، بلومبرگ اور چینی و جاپانی میڈیا ادارے بھی اس منصوبے کی تعریف کر چکے ہیں۔
وزیر بلدیات نے کہا کہ صوبے میں کہیں بھی جائیں، سُتھرا پنجاب کا فٹ پرنٹ نظر آتا ہے۔ ایک لاکھ 80 ہزار ورکرز اور 40 ہزار گاڑیوں کی ڈیجیٹل نگرانی کا نظام بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی نظام عوام کی شرکت کے بغیر سو فیصد نتائج نہیں دے سکتا، اس لیے شہریوں کی شمولیت بڑھانے کے لیے آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنانا ضروری ہے۔ چیلنجز سے سیکھ کر آگے بڑھیں گے اور سروس ڈیلیوری کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔
ذیشان رفیق نے بتایا کہ سُتھرا پنجاب کے زیر انتظام جمع ہونے والے ویسٹ کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، جبکہ ویسٹ ٹو ویلیو کے دوسرے مرحلے کا آغاز اور واضح سمت کا تعین ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جولائی 2026 سے اتھارٹی ماڈل نے کمپنی ماڈل کی جگہ لے لی ہے اور ہر ضلع میں ایجنسی بنانے سے مانیٹرنگ سسٹم میں بہتری آ رہی ہے۔
اجلاس میں سُتھرا پنجاب اتھارٹی کے انتظامی، مالیاتی اور سروس ڈیلیوری سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا اور صفائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔










