لاہور(پنجاب پوسٹ)مرکزی صدرپاکستان کسان اتحاد خالد کھوکھر نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ سال کاشتکار کے لیے بھیانک ترین سال ہوگا،اب زراعت پرفاتحہ پڑھنے کا وقت آگیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد کھوکھر نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں زراعت کا شعبہ شدید مشکلات کا شکار ہے، حکومت آٹا، چینی اور گنے پر سیاست سے گریز کرے اور کسانوں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ یقینی بنائے۔
خالد کھوکھر کا کہنا تھا کہ گندم کی پیداواری لاگت 3 ہزار 850 روپے فی من ہے، حکومت آئندہ سیزن کے لیے 4 ہزار 700 روپے فی من ریٹ یقینی بنائے، مناسب قیمت ملنے کی صورت میں آئندہ برس ملک میں آٹے یا گندم کا بحران نہیں آئے گا۔
مرکزی صدر نے کہا کہ کسانوں نے اپنی گندم 3 ہزار سے 3 ہزار 500 روپے فی من فروخت کی، جبکہ یہی گندم اب 5 ہزار روپے فی من تک فروخت ہورہی ہے، جس سے کسان اور صارف دونوں متاثر ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے 30 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں، جبکہ بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو صورتحال انتہائی خطرناک ہوسکتی ہے۔
انہوں نے شوگر ملز مالکان پر بھی کسانوں کے معاشی استحصال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گنے کو ملز تک پہنچانے پر 500 روپے فی من لاگت آتی ہے، اس لیے کسان کو کم از کم 700 روپے فی من ملنے چاہئیں۔
مرکزی صدر کسان اتحاد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یوریا، ڈی اے پی، بجلی اور ڈیزل سمیت زرعی لاگت دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ شدید بدانتظامی اور گورننس کے فقدان کے باعث کسان مشکلات کا شکار ہیں۔
خالد کھوکھر نے کہا کہ کسانوں کی ہمت ختم ہوچکی ہے، وہ زمینیں، درخت اور زیورات فروخت کرکے پیداواری لاگت پوری کرنے پر مجبور ہیں۔ موجودہ سال کاشتکاروں کے لیے بھیانک ترین سال ہوگا، اب زراعت پر فاتحہ پڑھنے کا وقت آگیا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر زرعی شعبے اور ملکی غذائی تحفظ کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔










