لاہور(پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ بار نے انسدادِ دہشتگردی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عدالتی آزادی، شفافیت اور منصفانہ ٹرائل کے لیے سنگین خطرہ قرار دے دیا۔ بار کا کہنا ہے کہ ترمیم سے بنیادی حقوق اور آئینی ضمانتوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ بار کے مطابق ترمیم کے تحت بی ایس 20 سے کم گریڈ کا سرکاری افسر کسی مقدمے کو ’’اسپیشل سیکیورٹی کیس‘‘ قرار دے سکے گا، جبکہ ایسے مقدمے میں جج، پراسیکیوٹر، وکیلِ صفائی، پولیس افسر اور گواہوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
بار کے مطابق نامزد افسر کی درخواست پر چیف جسٹس کسی مقدمے کو انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج کو منتقل بھی کر سکیں گے۔ لاہور ہائیکورٹ بار نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمات کی انتظامیہ کی جانب سے نامزدگی اور منتقلی عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے اصول کو متاثر کر سکتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ بار کا کہنا ہے کہ اہم فریقین کی شناخت خفیہ رکھنے سے عدالتی کارروائی کی شفافیت اور غیرجانبداری متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ یہ ترمیم آئین کے آرٹیکل 10-A میں دیے گئے منصفانہ ٹرائل کے حق سے بھی متصادم ہے۔
بار نے خبردار کیا کہ مجوزہ قانون سیاسی انتقام کے لیے حکومتی آلہ بن سکتا ہے اور بنیادی حقوق، عدالتی آزادی اور منصفانہ ٹرائل کی آئینی ضمانتوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ ترمیم پر نظرثانی کرکے اسے آئین، بنیادی حقوق اور عدالتی آزادی کے اصولوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔










