لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں 9 مئی کے مختلف مقدمات میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل اور مقدمات کی کارروائی کے پیش نظر آئندہ سماعت پر متعلقہ کیسز کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کردی۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمر سرفراز چیمہ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے مقدمات سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ ضمانت کی درخواستوں پر مزید قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔
عدالت کی جانب سے ملزمان کے وکلا کو پہلے ہی ہدایت کی جا چکی ہے کہ وہ ضمانت کی درخواستوں پر اپنے دلائل مکمل کریں۔ آئندہ سماعت پر وکلا کی جانب سے ضمانت کے حق میں مزید قانونی دلائل دیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد عدالت درخواستوں پر فیصلہ کرنے کی جانب بڑھ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اداکارہ ہراسانی کیس، کیا ثاقب چدھڑ کو مقدمے سے بری کردیا گیا ہے؟
ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے عسکری ٹاور حملہ سمیت دو مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ ان درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مقدمات میں انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔
دوسری جانب سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے جناح ہاؤس حملہ، عسکری ٹاور حملہ سمیت تین مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ ان مقدمات میں بھی عدالت کے سامنے ضمانت کی درخواستیں زیرِ سماعت ہیں۔
انسداد دہشتگردی عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے 14 ستمبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے متعلقہ مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ عدالت کی جانب سے وکلا کو ضمانتوں پر دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کے باعث آئندہ سماعت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یوں ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمر سرفراز چیمہ کی ضمانت کی درخواستوں پر حتمی پیش رفت کے لیے مزید انتظار کرنا ہوگا، جبکہ عدالت آئندہ سماعت پر مقدمات کا ریکارڈ اور وکلا کے مکمل دلائل کی روشنی میں کارروائی آگے بڑھائے گی۔











