جماعت اسلامی کے چار مقامات پر دھرنے، حکومت کا پٹرول سستا کرنے سے انکار انجینئر نعیم الرحمان اب کیا کریں گے؟ بڑا اعلان کردیا

لاہور(پنجاب پوسٹ) پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا مال روڈ فیصل چوک پر احتجاجی دھرنا نویں روز میں داخل ہوگیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

حافظ نعیم الرحمن نے الزام عائد کیا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان پر مزید مالی بوجھ ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مختلف ڈیوٹیز اور لیویز شامل ہیں، اگر حکومت ان اضافی بوجھ کو کم یا ختم کرے تو عوام کو حقیقی ریلیف مل سکتا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عام آدمی کے لیے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دونوں صورتوں میں مہنگی ہوں گی، جس کا براہِ راست اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔ ان کے مطابق حکومت کو عوام پر مزید ٹیکسز اور لیویز عائد کرنے کے بجائے اپنے اخراجات میں کمی لانی چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمن نے حکومتی اخراجات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کو قربانی دینے پر مجبور کرنے کے بجائے حکمران طبقے کو اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی مشکلات کا بوجھ صرف عام شہریوں پر ڈالنا قابل قبول نہیں۔

دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ احتجاج کا دائرہ اب ملک بھر میں وسیع کیا جائے گا۔ ان کے مطابق مختلف علاقوں میں احتجاجی کیمپ قائم کیے جا چکے ہیں اور عوامی موبلائزیشن کے بعد احتجاج کو مزید منظم انداز میں سڑکوں تک لے جایا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے اور عوام کو ریلیف دینے پر مجبور کرنے کے لیے احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے کارکنوں اور عوام سے احتجاجی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی اپیل بھی کی۔

امیر جماعت اسلامی نے فلسطین اور غزہ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملوں کے خلاف مسلم دنیا کو مؤثر اور عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کو فلسطینی عوام کے حق میں مضبوط آواز بلند کرتے ہوئے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔


حافظ نعیم الرحمن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کو فلسطین کے معاملے پر محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت کو مسلمانوں کے وسیع تر مفاد میں مؤثر اقدامات کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

جماعت اسلامی کے امیر کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور عوام پر عائد اضافی مالی بوجھ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ ملک بھر میں احتجاجی سرگرمیوں کو مزید منظم کیا جائے گا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے