دھرنے کے دوران پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر حکومت ہمیں بدزن کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اب لیوی کے خاتمے تک ہم نہیں اٹھیں گے، جماعت اسلامی

لاہور(پنجاب پوسٹ) امیر جماعت اسلامی لاہور ضیا الدین انصاری نے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ فیصل چوک مال روڈ پر دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے دھرنے کا آج پانچواں روز ہے اور وہ اپنے مطالبات پر قائم ہیں۔

ضیا الدین انصاری نے کہا کہ دھرنے میں روزانہ مختلف مکاتبِ فکر کی نمائندگی ہو رہی ہے، جبکہ آج وکلا کا کنونشن بھی دھرنے میں منعقد ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے لیوی کی مد میں ایک ارب روپے اضافی وصول کیے ہیں، لہٰذا جب حکومت کا ٹارگٹ پورا ہوگیا ہے تو عوام سے مزید لیوی اور بھتہ ٹیکس وصول نہ کیا جائے۔

امیر جماعت اسلامی لاہور نے کہا کہ پیٹرول پر 135 روپے سے زائد لیوی اور دیگر ٹیکسز وصول کیے جا رہے ہیں، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے معاہدوں پر بھی نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے، جس میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سمیت مختلف حکومتیں شامل رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی طلب تقریباً 45 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ پیداوار کی صلاحیت 75 ہزار میگاواٹ تک بتائی جاتی ہے۔ حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ آئی پی پیز کے معاہدے ختم نہیں کیے جا سکتے کیونکہ متعلقہ کمپنیاں عالمی عدالت سے رجوع کر سکتی ہیں، تاہم جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ تمام آئی پی پیز کے معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

ضیا الدین انصاری نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت دباؤ کے باعث کم ہوئی ہے، حکومت عوام کو اس کا بڑا ریلیف دے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پیٹرول کی قیمت بڑھا کر جماعت اسلامی کا امتحان لے رہی اور کارکنوں کو بدظن کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن جماعت اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

اس موقع پر جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ نے کہا کہ حکومت ایسے لوگوں سے بھی لیوی کی مد میں ٹیکس وصول کر رہی ہے جو ٹیکس کے دائرے میں نہیں آتے۔ انہوں نے حکومت سے کرپشن ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں موجودہ حالات کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔

فرید پراچہ نے الزام عائد کیا کہ افسران کو ہزاروں گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں اور ان کے پیٹرول کا خرچ بھی عوام برداشت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر افسران کو سرکاری گاڑیوں اور پیٹرول کی سہولت ختم کردی جائے تو لیوی کا بوجھ بھی کم ہوسکتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ قوم سے کھربوں روپے وصول کیے گئے، آخر ان رقوم کا کیا کیا گیا؟ فرید پراچہ نے کہا کہ عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے پیسوں سے حکمرانوں کی عیاشیاں جاری ہیں، جبکہ عوام مہنگائی کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے