پاکستان کو چھوٹی، جوابدہ اور خود مختار انتظامی اکائیوں کی ضرورت
تحریر سیدہ نورین فاطمہ
تڑپتی مائیں، بین کرتے باپ، سینہ کوبی کرتے رشتہ دار،سرکار کی تسلیں، بیوروکریسی کے دلاسے، ریسکیو عمل پر سوالات، ڈاکٹرز غائب،عملہ غیر حاضر،چودہ جنازے ،یہ دنیا کے خوبصورت ترین اور محفوظ ترین دارلحکومت کے مناظر ہیں۔ لیکن ان مناظر میں بھی ایک سوال ہے، حادثے کا ذمہ دار کون ہے؟
آج کا افسوسناک واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی جانب توجہ دلاتا ہے کہ ہمارا بیوروکریٹک نظام غیر فعال ہے، جس کی بنیاد اقربا پروری اور دوست نوازی پر ہے۔
سیاست اور بیان بازی کے بجائے بہتر طرزِ حکمرانی پر توجہ مرکوز کرنے والی چھوٹی، مالی اور انتظامی طور پر خود مختار اکائیوں کی فوری ضرورت ہے۔ اسلام آباد کے حجم کو چھوٹے صوبوں کے مسئلے سے ملانا بھی قطعاً درست نہیں۔
اسلام آباد کی انتظامیہ انتظامی اور مالی طور پر خود مختار نہیں ہے بلکہ یہ وفاقی حکومت کے ماتحت ہے، جس کی اصل توجہ بجا طور پر قومی سطح پر پالیسی، سکیورٹی، خارجہ، معاشی اور دیگر بڑے مسائل پر مرکوز ہے۔
لہٰذا، آج کا یہ افسوسناک واقعہ درحقیقت اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان کو اپنی بڑھتی ہوئی اور غیر فعال بیوروکریسی کے ساتھ ایسی چھوٹی انتظامی اکائیوں کی ضرورت ہے جہاں بیوروکریٹس دور بیٹھے سیاسی آقاؤں کے بجائے براہِ راست عوام کی پہنچ میں ہوں اور ان کے سامنے جوابدہ ہوں۔
آئیے ہم سب مل کر ایک میرٹ پر مبنی، قابلِ رسائی اور جوابدہ پاکستان کی جانب قدم بڑھائیں، جہاں فیصلے مقامی سطح پر ان لوگوں کی طرف سے کیے جائیں جن کی قیادت کی جا رہی ہے، جہاں ہمارے پاس مقامی سیاسی قیادت ہو، جو عوام کے اندر سے ہو، جہاں سیاست محض بے معنی بیان بازی اور صوبائیت پسندی کا نام نہ ہو، جہاں حکمران دور دراز کے صوبائی دارالحکومتوں اور پالیسیوں کے پیچھے نہ چھپ سکیں۔
جہاں ہر واقعہ محض ایک اور افسوسناک باب بننے کے بجائے ایک سبق ہو، جہاں ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہماری آبادی اور انسانی وسائل ہوں، اور جہاں ہم نوجوانوں کو شخصیات اور شخصیت پرستی میں الجھانے کے بجائے ان کی توجہ کارکردگی اور طرزِ حکمرانی پر مرکوز رکھیں۔
وقت آ گیا ہے کہ سیاسی اور بیوروکریٹک اشرافیہ کے اقتدار کو طول دینے کے لیے بار بار ایک ہی طرزِ عمل دہرانے کے بجائے، چھوٹی، جوابدہ اور مالی و انتظامی طور پر باصلاحیت اکائیوں کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔












