لاہور (پنجاب پوسٹ) ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے ایک ماہ کے دوران صوبے بھر میں ہزاروں مقامات کی چیکنگ کی، 5 ہزار 223 اینٹوں کے بھٹوں کے معائنے کے دوران 79 بھٹے مسمار اور 29 سیل کر دیے گئے۔
21 جولائی سے 21 اگست تک بھٹہ مالکان کے خلاف کارروائیوں کے دوران 45 مقدمات درج جبکہ 51 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔
صنعتی آلودگی پھیلانے والے یونٹس کے خلاف بھی کریک ڈاؤن جاری رہا، ایک ماہ کے دوران 2 ہزار 392 صنعتی یونٹس کی چیکنگ کی گئی، 26 صنعتی یونٹس مسمار اور 96 سیل کیے گئے جبکہ 95 لاکھ 72 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔
پلاسٹک مافیا کے خلاف کارروائیوں میں ایک ماہ کے دوران 37 ہزار 433 کلوگرام ممنوعہ پلاسٹک ضبط کیا گیا، پلاسٹک قوانین کی خلاف ورزی پر 407 مقامات سیل، 5 مقدمات درج اور 2 کروڑ 6 لاکھ 32 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔
تعمیراتی گردوغبار پھیلانے والوں کے خلاف بھی ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے ایکشن لیا، 228 زیر تعمیر مقامات کی چیکنگ کے دوران 135 نوٹس جاری اور 45 مقامات سیل کیے گئے جبکہ 30 مقامات پر مسٹ اسپنکلرز نصب کیے گئے۔
پانی آلودہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے دوران 45 مقامات کی چیکنگ کی گئی، 6 نوٹس جاری اور 2 مقامات سیل کیے گئے۔
ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے واضح کیا ہے کہ ماحولیاتی قوانین توڑنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی، ڈی جی ماحولیات پنجاب عبداللہ نیر شیخ نے ہدایت کی ہے کہ صرف کارروائیوں کی تعداد نہیں بلکہ حقیقی ماحولیاتی بہتری کو ترجیح دی جائے۔
ڈی جی ماحولیات پنجاب عبداللہ نیر شیخ نے کم کارروائی والے شعبوں کے اعدادوشمار کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کردی، ان کا کہنا ہے کہ غفلت برداشت نہیں ہوگی۔
پلاسٹک شعبے میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں کارروائیوں میں کمی کے باعث ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے مانیٹرنگ مزید سخت کردی ہے، جبکہ صنعتی شعبے میں معائنے کم ہونے کے باوجود 26 یونٹس مسمار اور 96 سیل کیے گئے، خلاف ورزیوں پر ٹارگٹڈ ایکشن جاری ہے۔
اینٹوں کے بھٹوں کے معائنے میں بھی اضافہ ہوا، جولائی کے مقابلے میں 427 اضافی بھٹوں کی چیکنگ کی گئی، جبکہ فیوگیٹو ڈسٹ کے خلاف کارروائی میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوا اور گزشتہ ماہ کے 44 کے مقابلے میں 228 مقامات کی چیکنگ کی گئی۔
ترجمان ادارہ تحفظ ماحول پنجاب ساجد بشیر نے کہا ہے کہ آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی، جرمانہ اور مقدمہ مقصد نہیں بلکہ ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانا اصل ہدف ہے۔
ساجد بشیر کا کہنا ہے کہ تعمیراتی گردوغبار کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ آلودگی کے بڑے ذرائع کے خلاف ادارہ تحفظ ماحول کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا ثبوت ہے۔
ترجمان ادارہ تحفظ ماحول نے واضح کیا کہ کم جرمانوں کو کمزور ایکشن نہ سمجھا جائے، زیادہ خطرناک اور سنگین خلاف ورزیوں کو براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے سموگ سیزن سے قبل آلودگی کے بڑے ذرائع کے خلاف انفورسمنٹ مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور آلودگی پھیلانے والوں کو واضح انتباہ دیا ہے کہ قانون توڑنے پر کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔












