فیصل آباد کی عدالت سے عمر قید کا مجرم عمر حیات لاہور ہائیکورٹ نے بری کیوں کردیا؟

لاہور(پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے فیصل آباد کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرم عمر حیات کو بری کر دیا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے عمر حیات کی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق عمر حیات پر 10 مرلہ احاطے کے تنازع پر محمد آصف کو قتل کرنے کا الزام تھا، تاہم استغاثہ ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ چشم دید گواہوں کے بیانات میں اہم تضادات سامنے آئے۔ فائرنگ کے دورانیے اور فائرز کی تعداد سے متعلق گواہوں کے بیانات میں تضاد پایا گیا، جبکہ چشم دید گواہوں کی موقع پر موجودگی بھی مشکوک قرار دی گئی

عدالت نے قرار دیا کہ گواہوں نے اپنے کپڑوں پر خون لگنے کا دعویٰ کیا، تاہم تفتیشی افسر نے وہ کپڑے قبضے میں نہیں لیے۔ مزید برآں، موقع سے ملنے والے خول اور برآمد ہونے والے پستول کے حوالے سے فرانزک رپورٹ میں فائر نہ ہونے کی تصدیق ہوئی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ محض ہتھیار کی برآمدگی جرم ثابت نہیں کرسکتی اور جرم ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی شہادت بھی پیش نہیں کی گئی۔

عدالت نے قرار دیا کہ شک کا فائدہ کوئی رعایت نہیں بلکہ ملزم کا قانونی حق ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے عمر حیات کو بری کرنے کے ساتھ پراسیکیوشن کی جانب سے سزا میں اضافے کی درخواست بھی خارج کر دی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے