رحیم یار خان کی سیشن کورٹ نے 6 کلو چرس برآمدگی میں 14 سال قید کی سزا، لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم کیوں قرار دی؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے 6000 گرام چرس برآمدگی کے مقدمے میں ملزم ذوالفقار کو سنائی گئی 14 سال قید کی سزا اور جرمانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

ملزم ذوالفقار کو ایڈیشنل سیشن جج رحیم یار خان نے منشیات برآمدگی کیس میں سزا سنائی تھی۔ جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس راجہ غضنفر علی خان نے سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ کیس پراپرٹی کی محفوظ چین آف کسٹڈی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ منشیات کے نمونہ پارسلز پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھجوانے کا روڈ سرٹیفکیٹ اور مال خانے کا ریکارڈ بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

فیصلے کے مطابق سربمہر پارسل عدالت میں کھول کر گواہوں سے اس کی شناخت بھی نہیں کرائی گئی۔ چرس کے ٹکڑوں کی شکل سے متعلق گواہوں کے بیانات میں بھی تضاد سامنے آیا، ایک گواہ نے چرس کے ٹکڑوں کو مربع جبکہ دوسرے نے گول قرار دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ شواہد میں تضاد اور چین آف کسٹڈی ثابت نہ ہونے کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے فوجداری اپیل منظور کرتے ہوئے ذوالفقار کی سزا اور جرمانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے