لاہور پولیس نے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے 60 وارداتیں کرنے والا 2 رکنی گینگ کیسے گرفتار کیا؟

لاہور(پنجاب پوسٹ) پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت پر مبنی کیمروں اور ورچوئل پیٹرولنگ ٹیم کی مؤثر معاونت سے قلعہ گجر سنگھ پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں ڈکیتی اور راہزنی کی متعدد وارداتوں میں ملوث مبینہ 2 رکنی ڈکیت گینگ کو گرفتار کر لیا۔ ابتدائی تفتیش میں گرفتار ملزمان کے 60 سے زائد وارداتوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ موٹرسائیکل، غیر قانونی اسلحہ اور متعدد موبائل فونز بھی برآمد کر لیے۔

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق گرفتار ملزمان نے چند روز قبل لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں اسلحہ کے زور پر ایک شہری کو لوٹنے کی واردات کی تھی۔ ملزمان نے شہری سے موبائل فون اور نقدی چھینی اور واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر سیف سٹی کی ورچوئل پیٹرولنگ ٹیم فوری طور پر متحرک ہوئی اور جدید سرویلنس ٹیکنالوجی کی مدد سے واردات میں ملوث ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔

سیف سٹی کیمروں سے حاصل ہونے والی ویڈیو فوٹیج اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جائزہ لیا گیا۔ اے آئی بیسڈ کیمروں کی مدد سے ملزمان کی نقل و حرکت، استعمال ہونے والی موٹرسائیکل اور واردات کے بعد ان کے ممکنہ روٹس کو ٹریس کیا گیا۔ ورچوئل پیٹرولنگ ٹیم نے مختلف مقامات سے حاصل ہونے والے کیمروں کے شواہد کو یکجا کرکے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے ضروری معلومات مرتب کیں۔

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے جدید کیمروں سے حاصل شدہ ویڈیو شواہد، ملزمان کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات اور دیگر ضروری تفصیلات قلعہ گجر سنگھ پولیس کے ساتھ شیئر کر دیں۔ پولیس نے سیف سٹی کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی اور دونوں ملزمان کو حراست میں لے لیا۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے دورانِ تفتیش مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے لاہور کے مختلف علاقوں میں ڈکیتی، راہزنی اور دیگر وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ موٹرسائیکل، غیر قانونی اسلحہ اور متعدد موبائل فونز برآمد کیے ہیں، جبکہ برآمد ہونے والے سامان کے متعلق مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان سے یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ گینگ میں مزید کتنے افراد شامل ہیں اور ملزمان نے شہر کے کن علاقوں میں وارداتیں کیں۔ پولیس کی جانب سے ملزمان کے سابقہ ریکارڈ، زیرِ استعمال گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں سمیت دیگر شواہد کی بھی جانچ پڑتال جاری ہے۔

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیف سٹی کا جدید سرویلنس سسٹم جرائم کی بروقت نشاندہی اور وارداتوں میں ملوث ملزمان کی گرفتاری میں پولیس کے لیے اہم معاون ثابت ہو رہا ہے۔ شہر بھر میں نصب جدید کیمروں اور اے آئی بیسڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے مشکوک نقل و حرکت اور جرائم سے متعلق شواہد کی نگرانی کی جا رہی ہے، جس سے پولیس کو جرائم پیشہ عناصر تک پہنچنے میں مدد مل رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق سیف سٹی کی ورچوئل پیٹرولنگ ٹیمیں مختلف علاقوں میں ہونے والی وارداتوں کی اطلاعات پر فوری طور پر کارروائی کرتی ہیں اور کیمروں سے حاصل ہونے والے شواہد کو متعلقہ پولیس افسران کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے نہ صرف وارداتوں کے بعد ملزمان کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے میں مدد مل رہی ہے بلکہ جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال، ڈکیتی، راہزنی یا دیگر جرم کی صورت میں فوری طور پر پولیس ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دیں تاکہ متعلقہ ادارے بروقت کارروائی کر سکیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے