لاہور(پنجاب پوسٹ) پنجاب کے تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات کے بعد آج سے تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق بحال ہوگئیں۔ وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے سکول واپسی پر صوبے بھر کے طلباء کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ چھٹیوں کے بعد نئی توانائی کے ساتھ سیکھنے کا سفر وہیں سے آگے بڑھے گا جہاں رکا تھا۔
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے اپنے پیغام میں کہا کہ الحمدللہ آج سے تعلیمی سلسلہ معمول کے مطابق بحال ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر کے سکولوں کے لیے پیر تا جمعہ اوقاتِ کار متعین کر دیے گئے ہیں، جبکہ تمام تعلیمی ادارے متعلقہ نوٹیفکیشن میں درج اوقاتِ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا روزمرہ شیڈول ترتیب دیں۔
رانا سکندر حیات کے مطابق پنجاب بھر کے سکولوں میں تدریسی اوقات صبح 8 بجے سے دوپہر 1 بج کر 30 منٹ تک مقرر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ مقررہ اوقاتِ کار کے مطابق تعلیمی سرگرمیوں کو منظم انداز میں جاری رکھیں تاکہ طلباء کی پڑھائی متاثر نہ ہو۔
وزیر تعلیم نے چھٹیوں کے بعد سکول آنے والے طلباء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ تعطیلات کے بعد تعلیمی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ایک نئے مرحلے کی شروعات ہے۔ طلباء کو اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ دینی چاہیے اور اساتذہ بھی بچوں کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی رہنمائی اور معاونت کریں۔
رانا سکندر حیات نے کہا کہ نئی توانائی کے ساتھ سیکھنے کا سفر وہیں سے آگے بڑھے گا جہاں رکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل تعطیلات کے بعد بعض بچوں کو دوبارہ تعلیمی معمول میں آنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں، اس لیے اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھٹیوں کے بعد جن بچوں کی تعلیم میں کسی بھی وجہ سے تعطل آ رہا ہے، اساتذہ ان کے تعلیمی تسلسل کی بحالی میں بھرپور کردار ادا کریں۔ ایسے طلباء کی نشاندہی کرکے انہیں دوبارہ تعلیمی سرگرمیوں میں فعال طور پر شامل کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بچے کا تعلیمی سال ضائع نہ ہو۔
وزیر تعلیم پنجاب نے آؤٹ آف سکول بچوں کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آؤٹ آف سکول بچوں کی تعداد میں اضافے کو روکنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر بچے کو سکول تک لانا صرف حکومت کی نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور انہیں تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اساتذہ، والدین اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ بچوں کو سکولوں میں برقرار رکھنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ مستقبل میں تعلیمی نقصانات سے بچنے کے لیے نئی حکمت عملی وضع کرنے پر مشاورت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی نظام کو ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن کے ذریعے کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں طلباء کی تعلیم کا سلسلہ کم سے کم متاثر ہو اور تعلیمی نقصان کا ازالہ بروقت کیا جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب میں تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل، طلباء کی حاضری بہتر بنانے، سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے مربوط اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔












