راولپنڈی ( نعمان افتخار ) راولپنڈی کے عوامی اور تعلیمی منصوبے گورنمنٹ گرلز ایسوسی ایٹ کالج، ڈھوک دلال” کی تعمیر کئی ماہ سے بند ہونے کے باعث علاقے کی ایک ہزار سے زائد طالبات کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 35 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع ہونے والے اس منصوبے کا 90 فیصد سٹرکچر محض 100 دن میں مکمل کر لیا گیا تھا۔ اس کالج کا مقصد علاقے کی بیٹیوں کو ان کے گھر کے قریب اعلیٰ تعلیم کی سہولت فراہم کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں :راولپنڈی: نالے میں گرنے والے بچے کی لاش مل گئی
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ یہ زمین قبضہ مافیا، منشیات فروشوں اور دیگر عناصر سے واگزار کروا کر تعلیم کے لیے مختص کی گئی تھی۔ اب کام رکنے سے دوبارہ ان عناصر کے اس زمین پر نظر جمانے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
علاقہ مکینوں، والدین اور طالبات نے حکومت پنجاب مریم نواز شریف اور مریم اورنگزیب سے پرزور اپیل کی ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اس منصوبے پر کام فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ اس ادارے کو کسی قومی شخصیت کے نام سے منسوب کر کے اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ راولپنڈی کی بیٹیاں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : موسلادھار بارش؛ نالہ لئی میں طغیانی، پانی کی سطح 22 فٹ تک بلند، راولپنڈی میں خطرے کے سائرن بج اٹھے
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے شہر کی بیٹیوں کا مسئلہ ہے۔ منصوبے کی تکمیل سے ہزاروں گھروں کی بیٹیوں کو تعلیم کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔












