پنجاب میں صنعتی ترقی کا انقلابی منصوبہ، چائنہ کو مینوفیکچرنگ اینڈ ایکسپورٹ ہب بنانے کی پیشکش کا کیا فائدہ ہوگا؟

لاہور(پنجاب پوسٹ) پنجاب کی ترقی، خوشحالی اور معاشی استحکام کے لیے تاریخی سرمایہ کاری پلان پیش کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی نمائندگی کرتے ہوئے صوبائی وزیر زراعت عاشق کرمانی نے گوانگ یانگ میں حکومت پنجاب اور چین کے صوبہ گوئیژو کی حکومت کے اشتراک سے منعقدہ بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس میں شرکت کی۔

کانفرنس میں چین کی نمایاں کمپنیوں کے اعلیٰ حکام، بزنس لیڈرز اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔ چینی سرمایہ کاروں کو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق پنجاب میں سرمایہ کاری کے لیے دوستانہ ماحول، مراعات اور کاروباری مواقع سے آگاہ کیا گیا، جبکہ انہیں پنجاب کے مختلف خصوصی اقتصادی زونز کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی گئی۔

صوبائی وزیر عاشق کرمانی نے پنجاب کے معاشی اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کو چین کے لیے بہترین مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ ہب بنانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ پنجاب کی بڑی صارف مارکیٹ، وسیع صنعتی بنیاد، ٹیکسٹائل اور انجینئرنگ سیکٹر، زرعی پیداوار اور جغرافیائی محلِ وقوع اسے سرمایہ کاری کے لیے منفرد بناتے ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں 40 ہزار سے زائد مینوفیکچرنگ صنعتی یونٹس موجود ہیں، جبکہ سیالکوٹ اور فیصل آباد عالمی ایکسپورٹ کلسٹرز کے طور پر نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ پنجاب ملک کی غذائی ضروریات کا تقریباً 65 فیصد پورا کرتا ہے اور لائیو سٹاک، زراعت، ایکوا کلچر اور سیاحت کے شعبوں میں بھی وسیع ویلیو ایڈیشن کا پوٹنشل رکھتا ہے۔

چینی سرمایہ کاروں کو بتایا گیا کہ پنجاب تقریباً 90 ہزار کلومیٹر پر مشتمل چھوٹی بڑی سڑکوں کے نیٹ ورک کے باعث پاکستان کا سب سے بڑا روٹ نیٹ ورک رکھتا ہے اور سی پیک کے ذریعے چین تک رسائی کا اہم گیٹ وے ہے۔ پنجاب کی جغرافیائی پوزیشن اسے خلیجی ممالک اور مشرقی افریقہ کے لیے علاقائی تجارتی مرکز بنانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

حکومت پنجاب کی جانب سے چینی سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی اقتصادی زونز میں مختلف مراعات بھی پیش کی گئی ہیں۔ خصوصی اقتصادی زونز میں ون ٹائم ڈیوٹی فری مشینری کی درآمد، 10 سال تک انکم ٹیکس فری سہولت اور 30 سالہ لینڈ لیز سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ چینی کمپنیوں کے لیے خصوصی لینڈ لیز پالیسی بھی متعارف کرائی گئی ہے۔

کانفرنس کے دوران صوبائی وزیر زراعت اور صوبائی وزیر آبپاشی نے چینی کمپنیوں اور کاروباری وفود سے نتیجہ خیز ملاقاتیں بھی کیں۔ چینی کمپنیوں نے پنجاب میں پروڈکشن اور تکنیکی مہارت منتقل کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

بریفنگ میں پنجاب انویسٹمنٹ لائف سائیکل کے لیے حکومت کی جانب سے انویسٹر آفٹر کیئر پروگرام، چائنا ڈیسک، انویسٹر فسیلیٹیشن سنٹر، بی ٹو بی میچ میکنگ اور ون ونڈو آپریشن سمیت مختلف سہولیات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

صوبائی حکومت کے مطابق پنجاب انوویشن فار ویلیو، آپرچونٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن پروگرام کے ذریعے ایک لاکھ 62 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کرنے، 6.8 ارب ڈالر تک کے معاشی پوٹنشل اور 3.2 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پروگرام کے تحت ساڑھے 8 لاکھ سے زائد ورکرز کو ہنرمند بنانے، ویلیو ایڈیشن اور عالمی معیار کی مصنوعات کی تیاری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پنجاب میں ایک ہزار نئے مینوفیکچرنگ یونٹس کے قیام کے لیے 35 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 80 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری سے مزید 40 ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ کلسٹر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 20 ارب روپے سے سڑکوں، پانی، سینیٹیشن اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی کی جائے گی۔

حکومت پنجاب کے مطابق چینی سرمایہ کاروں کی سکیورٹی کے لیے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ، بلٹ پروف گاڑیاں، ڈیجیٹل سرویلنس اور پنجاب چائنا جوائنٹ سکیورٹی سسٹم سمیت خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

صوبائی حکومت نے واضح کیا کہ پنجاب کو جدید مینوفیکچرنگ، ایکسپورٹ اور ویلیو ایڈیشن کا مرکز بنانے کے لیے چینی سرمایہ کاری کو بھرپور سہولت فراہم کی جائے گی۔ فیصل آباد میں پہلے ہی 33 چینی ادارے مقامی شراکت داروں کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے