لاہور( پنجاب پوسٹ )وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کے درمیان ہونے والی تقریباً دو گھنٹے طویل ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے ایجنڈے میں سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کا معاملہ سرفہرست رہا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نواز شریف کو بانی پی ٹی آئی کو شفا ہسپتال کے بجائے پمز میں طبی معائنہ کرانے کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : کشمیر کا نیا وزیر اعظم کون ہوگا ؟ مری میں نواز شریف سے کون سے اہم رہنما ملاقات کر رہے ہیں ؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال، آئندہ کی سیاسی حکمت عملی اور مختلف قانونی آپشنز پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی جانے والی توہینِ عدالت کی درخواست اور اس کے ممکنہ قانونی جواب کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف نے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان مزید کسی سیاسی اور آئینی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا، موجودہ صورتحال میں تمام فیصلے ملکی مفاد اور سیاسی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جانے چاہئیں۔
ملاقات میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے لیے مختلف نام بھی زیر غور آئے اور اس حوالے سے ممکنہ امیدواروں پر مشاورت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : مظفرآباد کل سیاسی طاقت کا مرکز، نواز شریف اور مریم نواز کا بڑا انتخابی جلسہ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی ملاقات میں شریک ہوئیں۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال سمیت اہم قومی اور آئینی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔













