اگر بانی تحریک انصاف رہا ہوئے تو فیلڈ مارشل سے محاذ آرائی نہیں کریں گے؟ زلفی بخاری کا رائٹرز کو انٹرویو، کیا ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان کا بیانیہ دم توڑ گیا؟

لاہور ( پنجاب پوسٹ)پاکستان تحریک انصاف کے بانی کے قریبی ساتھی اور سابق وفاقی وزیر ذوالفقار بخاری نے کہا ہے کہ اگر عمران خان جیل سے رہا ہوتے ہیں تو وہ فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کے ساتھ محاذ آرائی نہیں کریں گے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق زلفی بخاری کا یہ بیان تحریک انصاف کے گزشتہ دو برس کے سیاسی بیانیے میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

زلفی بخاری نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان اپنے ملک کے مفاد میں ماضی کی تلخیوں کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان کو اپنے دکھ اور تکلیف پر قابو پانا اور ملک کی بہتری کے لیے انہیں برداشت کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی تحریک، لاہور ہائیکورٹ بار میں وکلاء کا اظہارِ یکجہتی

انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک ’’وسیع القلب‘‘ شخصیت کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں اور رہائی کے بعد اسٹیبلشمنٹ یا فوجی قیادت کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کریں گے۔ زلفی بخاری نے اس امکان کا بھی ذکر کیا کہ عمران خان کی جانب سے ’’شفافیت‘‘ اور مفاہمت کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: تحریک انصاف کی صفوں میں سپولے ، بانی کی جیل میں موجودگی انہی کی وجہ ہے ، فواد چوہدری

ذوالفقار بخاری کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل پاکستان کی اعلیٰ عدالت نے عمران خان کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم عدالت کے اس فیصلے کو سیاسی مفاہمت یا کسی ممکنہ معاہدے سے جوڑنے کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

عمران خان کی سیاست میں گزشتہ دو برس کے دوران فوجی قیادت کے خلاف سخت بیانیہ نمایاں رہا ہے۔ تحریک انصاف کے حامیوں میں یہ تصور بھی مضبوط رہا کہ عمران خان دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اسی تناظر میں ذوالفقار بخاری کا یہ کہنا کہ رہائی کی صورت میں عمران خان فوجی قیادت سے محاذ آرائی نہیں کریں گے، پارٹی کے موجودہ سیاسی بیانیے میں ممکنہ تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ذوالفقار بخاری عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں اور طویل عرصے سے ان کے سیاسی حلقے میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کا یہ بیان تحریک انصاف کے مستقبل کے سیاسی رویے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ممکنہ تعلقات کے حوالے سے نئی بحث کا سبب بن گیا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے