لاہور( پنجاب پوسٹ ) لاہور میں پولیس حراست کے دوران دو خواتین کی ہلاکت کے واقعے پر سی سی پی او لاہور نے تفصیلات جاری کردی ہیں۔
سی سی پی او لاہور کے مطابق 4 اگست کو دوپہر 2 بجکر 54 منٹ پر دونوں خواتین کے خلاف نوسربازی کی کال موصول ہوئی، جبکہ انہیں شام 4 بجکر 39 منٹ پر گرفتار کیا گیا۔پولیس کے مطابق دونوں خواتین کو شام 5 بجے کے کچھ دیر بعد محرر کے حوالے کیا گیا، تاہم شام 5 بجکر 54 منٹ پر ان کی حالت خراب ہوگئی۔ دونوں خواتین کو شام 6 بجکر 9 منٹ پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں کچھ ہی دیر بعد ان کی موت کی تصدیق کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں :تھانہ ٹاؤن شپ، دو خواتین کی پراسرار موت کیسے ہوئی؟ پوسٹمارٹم رپورٹ میں کیا اہم انکشاف ہوا؟
سی سی پی او لاہور کے مطابق دونوں خواتین کا سی آر او ریکارڈ چیک کیا گیا تو گجرات، ڈنگہ اور لاہور میں ان کے خلاف مقدمات درج ہونے کا ریکارڈ سامنے آیا۔ شناخت کے بعد خواتین کے ورثا کو اطلاع دی گئی اور دونوں کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔
پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم اور مجسٹریٹ کی رپورٹ میں خواتین پر تشدد کے شواہد سامنے نہیں آئے۔سی سی پی او لاہور نے غازی آباد پولیس اسٹیشن میں 19 سالہ ذہنی معذور خاتون سے مبینہ زیادتی کے واقعے پر بھی وضاحت کی۔ ان کے مطابق خاتون کو تھانے میں 9 گھنٹے رکھنے سے متعلق قیاس آرائیوں میں صداقت نہیں۔
مزید پڑھیں :لاہور: پولیس اہلکار کی لڑکی کی آبرو ریزی، افسران کو لاعلم کیوں رکھا؟ پورا تھانہ معطل، سب لائن حاضر
سی سی ٹی وی ریکارڈ کے مطابق خاتون تقریباً 30 منٹ تھانے میں موجود رہی۔پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز نے 78 افراد کو معطل کیا ہے۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشنز نے بھی انچارج سمیت محرر کو معطل کردیا ہے۔
سی سی پی او لاہور کے مطابق دونوں خواتین کی ہلاکت کا پولیس سے انٹرلنک ہونے کے باعث انہیں پولیس کی نگرانی میں دفنایا گیا۔













