لاہور(پنجاب پوسٹ) میں ماں کے دودھ کی اہمیت اور افادیت سے متعلق آگاہی کے عالمی مہینے کے تناظر میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، صوبائی وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
تقریب میں عالمی ادارہ صحت، ماہرین صحت، سول سوسائٹی اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں زچہ و بچہ کی صحت بہتر بنانے کیلئے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں، ہر بچے کی صحت اور تندرستی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صوبائی وزیر کے مطابق مسلسل اقدامات کے باعث غذائی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، 2018 میں 36 فیصد بچے اسٹنٹنگ کا شکار تھے، جو اب کم ہو کر 27 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ ویسٹنگ کی شرح 15 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد ہوگئی ہے۔
خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ اب 52 فیصد سے زائد مائیں اپنے بچوں کو دو سال تک دودھ پلا رہی ہیں۔ صوبے کے 2500 سے زائد بنیادی مراکز صحت میں زچہ و بچہ کی خدمات بہتر بنائی گئی ہیں، جبکہ تمام ہسپتالوں میں لیکٹیشن رومز اور 29 کینگرو مدر کیئر مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 3 ہزار او ٹی پی سائٹس اور 60 غذائی بحالی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ 911 کلینکس آن ویلز دیہات میں طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ 2024 سے اب تک کلینکس آن ویلز کے ذریعے 26 لاکھ بچوں کی اسکریننگ کی جاچکی ہے۔
صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کیلئے قدرتی، محفوظ، سستا اور پائیدار ذریعہ خوراک ہے۔ ماں کے دودھ کو نوزائیدہ بچوں کی خوراک کا معمول بنانے کیلئے میڈیا، علماء، اساتذہ اور خاندانوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ ماں کا دودھ بچوں کے صحت مند مستقبل کی ضمانت ہے، حکومت پنجاب ہر بچے کو صحت مند اور محفوظ آغاز فراہم کرنے کیلئے اقدامات جاری رکھے گی۔













