لاہور(پنجاب پوسٹ)صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی جانب سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروانے کی درخواست پر سیشن کورٹ لاہور نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے درخواست خارج کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ قانون کے مطابق گواہ کا ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کروانا ضروری ہے، جبکہ ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت صرف غیر معمولی حالات میں دی جاسکتی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی نے درخواست پر تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عظمیٰ بخاری ایک عوامی عہدہ رکھتی ہیں، تاہم صرف عوامی عہدہ رکھنے کی بنیاد پر کسی شخص کو عدالت میں پیش ہونے سے استثنیٰ حاصل نہیں ہوجاتا۔
یہ بھی پڑھیں:صوبائی وزیر عظمی بخاری کی ویڈیو لنک پر بیان قلمبند کروانے کی درخواست مسترد
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے اپنی جان و سلامتی کو حقیقی خطرہ لاحق ہونے سے متعلق کوئی ٹھوس حقائق یا مواد پیش نہیں کیا۔ فیصلے کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے دھمکیاں ملنے، سکیورٹی رپورٹ یا کسی ایسے دیگر مواد کو ریکارڈ پر نہیں لایا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ انہیں عدالت میں پیش ہونے سے حقیقی خطرہ لاحق ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ صوبائی وزیر ہونے کی صورت میں درخواست گزار کو نقل و حرکت کے دوران مناسب سکیورٹی فراہم کی جاسکتی ہے۔ اگر انہیں سکیورٹی خدشات لاحق ہیں تو وہ مزید سکیورٹی کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کرسکتی ہیں۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے قانون کے مطابق درخواست خارج کی اور اس فیصلے میں کوئی غیر قانونی چیز نہیں پائی گئی۔ عدالت نے عظمیٰ بخاری کی درخواست خارج کرتے ہوئے انہیں آئندہ سماعت پر ٹرائل کورٹ کے روبرو پیش ہوکر بیان ریکارڈ کروانے کی ہدایت کردی۔
واضح رہے کہ صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی سوشل ایکٹوسٹ فلک جاوید کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا، جبکہ این سی سی آئی اے مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کرچکی ہے۔














