لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب کی جیلوں کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے محفوظ بنانے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب سیف جیل منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے، منصوبے کے تحت 10 سینٹرل جیلوں، ڈسٹرکٹ جیل لاہور اور 10 کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو جدید سکیورٹی نظام سے لیس کیا جارہا ہے۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی زیر صدارت سیف جیل منصوبے سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں منصوبے پر پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے مستقبل کے اہداف کا تعین کیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے 80 فیصد جدید آلات کی خریداری اور انسپکشن مکمل ہوچکی ہے۔
حکومت پنجاب نے سیف جیل منصوبے کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ منصوبے کے تحت پنجاب کی جیلوں میں 12 ہزار سے زائد جدید کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ ان کیمروں میں نائٹ وژن، اینٹی شیک اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس بیسڈ ٹیکنالوجی شامل ہوگی، جو چہروں اور گاڑیوں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
جیلوں میں 615 پینک بٹن، 1525 پبلک ایڈریس سسٹم، 369 باڈی کیمرے اور 615 واکی ٹاکی سسٹم بھی نصب کیے جائیں گے، جبکہ 41 ایکس رے باڈی سکینرز، 82 انڈر وہیکل سرویلنس سسٹم اور 787 فیشل ریکگنیشن ایکسس ڈیوائسز بھی سکیورٹی نظام کا حصہ ہوں گی۔
جیل سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے 133 سافٹ ویئرز اور 51 ویڈیو کانفرنس سسٹم نصب کیے جائیں گے۔ تمام ملاقاتیوں کی نگرانی کے لیے وزیٹر مینجمنٹ سسٹم بھی آپریشنل ہوگا، جبکہ کیمرے قیدیوں اور جیل عملے کی حاضری اور نقل و حرکت پر نظر رکھیں گے۔
حکام کے مطابق جیل میں کسی بھی خلافِ ضابطہ حرکت کی صورت میں آٹومیٹک الارم جنریٹ ہوگا۔ داخلی و خارجی راستوں، دفاتر، بیرکس، سکیورٹی وال، جیمرز ایریا، کچن، ہسپتال اور لائبریری کو بھی سرویلنس سسٹم کے دائرے میں لایا جائے گا۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پریزن ریفارمز حکومت پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سیف جیل منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے ایک ٹیم کی طرح کام کرنے اور روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
سینٹرل جیل لاہور اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر رواں ماہ مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ پنجاب بھر کی جیلوں میں منصوبے کی تکمیل کے لیے مارچ 2027 کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
منصوبے کی مانیٹرنگ کے لیے تمام جیلوں، ریجنل ڈی آئی جی دفاتر، آئی جی جیل آفس اور محکمہ داخلہ میں کنٹرول روم قائم کیے جائیں گے۔ منصوبے کی تکمیل کے ساتھ 5 سالہ آپریشنز اینڈ مینٹیننس بھی معاہدے میں شامل ہے۔
پنجاب سیف جیل منصوبے کی تکمیل کے لیے نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جبکہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی منصوبے کے لیے بطور کنسلٹنٹ خدمات انجام دے رہی ہے۔














