سبزی فروشوں کا مریم نواز کی گورننس کو کھلا چیلنج ، آلو کی سرکاری قیمت 33، منڈی میں 70 روپے کلو ، 240 والا ٹماٹر 450 میں ملنے لگا

دکانداروں کی من مانیاں، سبزیوں اور پھلوں کی مہنگے  داموں فروخت، شہری پریشان

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) اوپن مارکیٹ میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، موسمی پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں 30 سے 310 روپے فی کلو تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ دکاندار سرکاری نرخ نامے سے زائد قیمتیں وصول کرنے لگے ہیں۔ قیمتوں میں اضافے کے باعث عام آدمی کے لیے روزمرہ استعمال کی سبزیاں اور موسمی پھل خریدنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامہ موجود ہونے کے باوجود مارکیٹ میں اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

یہ بھی پڑھیں : سبزی کی آڑ میں منشیات فروشی بے نقاب، 2 ملزمان گرفتار، ڈھائی کلو سے زائد چرس برآمد

مارکیٹ میں آلو سرکاری قیمت 33 روپے کے بجائے 60 سے 70 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ پیاز کی سرکاری قیمت 155 روپے مقرر ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 120 سے 150 روپے فی کلو دستیاب ہے۔ ٹماٹر کی سرکاری قیمت 240 روپے مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں ٹماٹر 450 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہے ہیں۔ بھنڈی سرکاری قیمت 170 روپے کے مقابلے میں 240 روپے، جبکہ کریلے 120 روپے کے بجائے 220 روپے فی کلو میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں : گراں فروشی پر بڑی ضرب ۔۔۔لاہور میں مہنگائی مافیا کا گھیرا تنگ

دیسی ٹینڈے کی سرکاری قیمت 160 روپے مقرر ہے، لیکن مارکیٹ میں 250 روپے فی کلو تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ میتھی کی سرکاری قیمت 220 روپے کے مقابلے میں 280 سے 320 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ پھلوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ چونسہ آم کی سرکاری قیمت 310 روپے مقرر ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 450 روپے فی کلو، جبکہ انور رٹول آم سرکاری قیمت 345 روپے کے مقابلے میں 650 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔

دیسی نیا انار کی سرکاری قیمت 265 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم یہ پھل اوپن مارکیٹ میں دستیاب نہیں۔ کیلے کی سرکاری قیمت 210 روپے فی درجن کے مقابلے میں 250 روپے فی درجن فروخت کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح گرما کی سرکاری قیمت 170 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن مارکیٹ میں گرما 230 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں اضافہ، 20 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوگئیں

شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامہ صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ مارکیٹ میں دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخ نامے پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور زائد قیمت وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے