بچوں کا نگران مقرر کرنے کیلئے صرف عمر کو بنیاد نہیں بنایا جاسکتا، بچے کوئی ملکیتی سامان نہیں کہ جن پر زبردستی قبضہ کیا جائے، لاہور ہائیکورٹ

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کی تحویل کے کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے تینوں بچوں کو فوری طور پر ماں کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا ہے، جسٹس غلام سرور نہنگ نے بچوں کی والدہ نسیم بی بی کی درخواست پر 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے فیصلے میں 16 سالہ آمنہ، 11 سالہ ایمان اور 9 سالہ علی حسین کو ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا اور کہا کہ بچوں کے شیر خوار نہ ہونے کی بنیاد پر ماں کی درخواست خارج نہیں کی جاسکتی، جبکہ باپ کے پاس بچے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ زبردستی کی تحویل قانونی ہوجائے،عدالت نے قرار دیا کہ بچوں کا نگران مقرر کرنے کیلئے صرف عمر کو بنیاد نہیں بنایا جاسکتا، بچے کوئی ملکیتی سامان نہیں کہ جن پر زبردستی قبضہ کیا جائے۔ بچوں کی فلاح اور بہترین مفاد عدالت کیلئے سب سے مقدم ہے۔


ہائیکورٹ کے مطابق سیشن کورٹ نے فیصلے میں قانونی نکات کو مدنظر نہیں رکھا، سیکشن 491 کے تحت ماں کو بچوں کی فوری تحویل حاصل کرنے کا پورا حق ہے اور گارڈین کورٹ میں کیس زیرالتوا ہونے سے فوری ریلیف کا حق ختم نہیں ہوتا، عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوا بچوں کو ماں کی تحویل سے زبردستی الگ کیا گیا تھا، ماں کو تحویل دینے کا حکم عارضی اور فوری نوعیت کا ہے، جبکہ مستقل تحویل کا حتمی فیصلہ گارڈین کورٹ کرے گی، جو فیصلہ کرتے وقت بچوں کی مرضی اور فلاح کو مدنظر رکھے گی۔


عدالت عالیہ نے کیس کا مکمل اور باضابطہ تحریری حکم نامہ جاری کیا، والدہ کے مطابق والد نے 20 جولائی 2026 کو تینوں بچوں کو زبردستی چھین لیا تھا، ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ کا 27 جولائی کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیاگیا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے