لاہور(پنجاب پوسٹ)پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر قومی ٹیم کے سابق کپتان اظہر علی اور سابق فاسٹ باؤلر عثمان شنواری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی، ٹیم کمبینیشن اور کھلاڑیوں کے تسلسل پر زور دیا ہے۔ دونوں سابق کرکٹرز نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی کارکردگی کو مختلف پہلوؤں سے سراہا اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ سیریز کو ایک اہم امتحان قرار دیا۔
سابق کپتان اظہر علی نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ خراب کارکردگی کا ذمہ دار کسی ایک کپتان یا کوچ کو قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق ہم اکثر ٹیم کی ناکامی کا سارا ملبہ کپتان اور کوچ پر ڈال دیتے ہیں، حالانکہ گزشتہ کئی سالوں میں جن بنیادی چیزوں پر کام ہونا چاہیے تھا، ان پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔اظہر علی کا کہنا تھا کہ ٹیم کی فوری کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جو تبدیلیاں ممکن ہیں وہ ضرور کی جائیں، تاہم مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل المدتی منصوبہ بندی انتہائی ضروری ہے۔ چار سے پانچ سال کی منصوبہ بندی کے ذریعے ہی پاکستان کرکٹ کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔
سابق کپتان نے کہا کہ کرکٹ میں کامیابی اور جیت ہمیشہ اہم ہوتی ہے، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ ان کے مطابق ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز ڈرا ہونا بھی ایک مثبت پہلو ہے۔ پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنی چاہیے تھی، تاہم دوسرے میچ میں ٹیم نے بہتر کھیل پیش کرتے ہوئے کم بیک کیا۔
اظہر علی نے عبداللہ شفیق کی واپسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہترین کم بیک کیا ہے۔ بابر اعظم کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بابر بہت اچھا کھیل رہے ہیں، اگرچہ وہ بدقسمتی سے سنچری مکمل نہیں کر سکے۔ جس انداز سے بابر اعظم اس وقت کھیل رہے ہیں، اس سے پرانے بابر اعظم کی جھلک نظر آ رہی ہے۔
انہوں نے پاکستانی اسپنرز کی کارکردگی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ علی عثمان نے دونوں میچز میں اچھی باؤلنگ کی جبکہ ساجد خان نے بھی اپنا کردار بہترین انداز میں ادا کیا۔دوسری جانب سابق فاسٹ باؤلر عثمان شنواری نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے دوسرے ٹیسٹ میں بہترین کم بیک کیا۔ ان کے مطابق ٹیم میں جتنا تسلسل ہوگا، اتنے ہی بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈومیسٹک کرکٹر حمزہ نذر پر 2 سال کی پابندی، 10 لاکھ جرمانہ، وجہ کیا بنی؟
عثمان شنواری نے بابر اعظم کو ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سونپنے کے فیصلے کو اچھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم ٹیسٹ کرکٹ میں ٹیم کو لیڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز میں مختلف وینیوز اور کنڈیشنز کے باعث ٹیم کمبینیشن میں تبدیلی ضروری ہوتی ہے، اس حوالے سے ٹیم مینجمنٹ بہتر فیصلہ کر سکتی ہے۔سابق فاسٹ باؤلر نے کہا کہ ویسٹ انڈیز میں پہلے ٹیسٹ کی پچ فاسٹ باؤلرز کے لیے سازگار تھی جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں اسپنرز کو مدد ملی، اس لیے وینیوز اور کنڈیشنز کے مطابق ٹیم کمبینیشن تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انگلینڈ کے دورے کے حوالے سے عثمان شنواری نے کہا کہ انگلینڈ میں سیریز پاکستان کے لیے ہمیشہ مشکل رہی ہے، تاہم موجودہ فارم اور مومینٹم کے ساتھ ٹیم جا رہی ہے اور امید ہے کہ پاکستان اچھی سیریز کھیلے گا۔شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کے حوالے سے عثمان شنواری نے کہا کہ دونوں بڑے فاسٹ باؤلرز ہیں، تاہم مسلسل کرکٹ کھیلنے سے فاسٹ باؤلرز کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی چاہے کتنی ہی اچھی فٹنس رکھتے ہوں، مسلسل باؤلنگ کے باعث رفتار کم ہونے کا امکان رہتا ہے، اس لیے شاہین اور نسیم کو محدود کرکٹ کھیلنے کا مشورہ دوں گا۔عثمان شنواری نے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ مختلف ٹیموں اور مختلف کنڈیشنز کے خلاف ایک ہی کمبینیشن کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق فاسٹ باؤلرز کو مناسب آرام اور محدود کرکٹ دی جائے تو ان کی رفتار برقرار رہ سکتی ہے، کیریئر طویل ہو سکتا ہے اور انجریز کے امکانات بھی کم ہوں گے۔
محمد عباس کی مثال دیتے ہوئے عثمان شنواری نے کہا کہ فاسٹ باؤلنگ کو صرف رفتار کے ساتھ جوڑنا درست نہیں۔ محمد عباس نے گزشتہ میچ میں تقریباً 125 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آٹھ وکٹیں حاصل کیں، اس لیے مؤثر باؤلنگ کے لیے صرف رفتار ہی واحد معیار نہیں ہونی چاہیے۔احسان اللہ کے حوالے سے عثمان شنواری نے کہا کہ اگر انہیں فٹنس یا دیگر معاملات پر شکایات ہیں تو انہیں اپنی فٹنس اور ڈسپلن پر بھی توجہ دینی چاہیے۔کوچنگ کے حوالے سے عثمان شنواری نے کہا کہ فی الحال ان کا پاکستان ٹیم کا کوچ بننے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کے مطابق ہر کرکٹر کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی قومی ٹیم کی کوچنگ کرے، تاہم کوچز کو بھی ایک باقاعدہ اسٹرکچر کے تحت آگے آنا چاہیے، جس طرح کھلاڑی مختلف مراحل سے گزر کر قومی ٹیم تک پہنچتے ہیں۔
عثمان شنواری نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں کوچنگ لیول ٹو کا کورس مکمل کیا ہے اور فی الحال نوجوان کھلاڑیوں کی کوچنگ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس ٹیم میں آپ نے خود کھیلا ہو، مستقبل میں اسی ٹیم کی کوچنگ کرنے سے بڑی بات شاید ہی کوئی ہو۔













