پاکستان میں کتنے صوبے بنائے جائیں گے ؟ کون سا نیا صوبہ کب کب بنایا جاسکتا ہے ؟ معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیویلپمنٹ کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) پاکستان میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس،معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیویلپمنٹ کی رپورٹ کیا کہتی ہے ؟،نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پہلے منظر نامے میں ملک میں12، دوسرے منظرنامے میں15سے20 چھوٹے صوبے قائم ہوسکتے ہیں جبکہ تیسری صورت میں اڑتیس وفاقی ڈویژنز ہوسکتے ہیں،تھنک ٹینک نےموجودہ انتظامی ڈھانچے کو معاشی مسائل حل کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیدیا،

وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک میں نئے صو بوں اور انتظامی یونٹوں کے قیام کی تجویز کے بعد ملک میں نئے صوبوں کے حوالے سے نئی بحث نے جنم لیا ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی حالیہ پریس کانفرنس میں اس تجویز کی تائید کی تاہم معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیویلپمنٹ نئے صوبوں سے متعلق تین آپشنز یا منظر نامے پیش کرچکا .

پاکستان کےچوٹی کےکاروباری شخصیات پر مشتمل معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ نے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے گزشتہ برس رپورٹ جاری کی تھی ۔رپورٹ میں 2023کی مردم شماری کا حوالہ دیاگیا جس کے مطابق پنجاب کی آ بادی بارہ کروڑ 76لاکھ، سندھ کی پانچ کروڑ56لاکھ، خیبر پختونخواکی چار کروڑآٹھ لاکھ اور بلوچستان کی ایک کروڑ48لاکھ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 12 چھوٹے صوبے قائم کرنے سے ہر صوبے کی آبادی کم ہوکر 2 کروڑ تک ہوجائے گی، 12چھوٹے صوبوں کے قیام سے صوبائی بجٹ 994 ارب روپے تک ہو جائے گا۔رپورٹ کے مطابق 15 سے 20 چھوٹے صوبوں کے قیام سے صوبائی بجٹ 600 سے 800 ارب روپے تک ہوجائے گا

ہر صوبے کی آبادی ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 60 لاکھ افراد تک ہوسکتی ہے،معاشی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق 38 وفاقی ڈویژنز قائم کرنے سے ہر ڈویژن کی آبادی 63 لاکھ نفوس تک ہو جائے گی، پاکستان کی 24 کروڑ 15 لاکھ آبادی صرف 4 صوبوں میں قیام پذیر ہے۔

تھنک ٹینک کے مطابق خیبرپختونخوا میں غربت 48 فیصد اور سندھ میں 45 فیصد ہے، آبادی کے دباؤ کی وجہ سے صوبوں کو وسائل کی فراہمی بڑا فرق دکھائی دیتا ہے، پنجاب کو 5 ہزار 355 ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کو ایک ہزار 28 ارب روپے مل رہے ہیں، صوبوں میں بے تحاشا آبادی کی وجہ سے معاشی مسائل گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں.

چھوٹےصوبوں کے قیام سے بجٹ کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکے گا۔فی الوقت صوبوں میں اوسط غربت کی شرح 40 فیصد ہوچکی ، چھوٹے صوبوں کے قیام سے غربت کی شرح میں خاطر خواہ کمی ہوگی، چھوٹے صوبوں کے قیام سے روزگار کے بہتر مواقع میسر آ سکتے ہیں، وفاقی ڈویژنز کے قیام سے ٹارگٹڈ معاشی اقدامات شروع ہوسکتے ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے