لاہور ( پنجاب پوسٹ ) مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کو ایک اہم سکیورٹی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے سب سے بڑے ثمرات عسکری میدان کے بجائے اقتصادی شعبے میں سامنے آ سکتے ہیں۔
ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی بحالی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور توانائی کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے، اس معاہدے سے یہ توقعات وابستہ ہو گئی ہیں کہ اسٹریٹجک تعاون میں اضافہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، تجارت میں وسعت اور صنعتی اشتراک کو نئی رفتار دے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما کا قتل، ٹک ٹاکر گرفتار، ڈرائیور کو ہنی ٹریپ کیسے کیا؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مجموعی معیشت کا حجم تین کھرب امریکی ڈالر سے تجاوز کرتا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر دفاعی تعاون کے ساتھ تجارت میں سہولت، سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری کو بھی فروغ دیا جائے تو یہ بلاک علاقائی اقتصادی انضمام کی مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔اگرچہ تینوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے قریبی سفارتی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں، لیکن باہمی تجارتی روابط اب بھی اپنی حقیقی صلاحیت سے کہیں کم ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 4 سے 5 ارب ڈالر جبکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت صرف 1.3 سے 1.5 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب اور ترکیہ کی باہمی تجارت 8.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جسے دونوں حکومتیں مستقبل قریب میں 10 ارب ڈالر اور طویل مدت میں 30 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتی ہیں۔














