لاہور (پنجاب پوسٹ) منی مزدا ٹرانسپورٹرز نے آج سے غیر معینہ مدت کے لیے پہیہ جام ہڑتال شروع کر دی ہے، جس کے باعث ملک بھر میں ترسیلی نظام شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ٹرانسپورٹرز رہنما تنویر احمد جٹ کے مطابق حکومت کی ہٹ دھرمی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔
تنویر احمد جٹ کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے باعث سبزیاں، دالیں، ادویات اور دیگر اشیائے خورد و نوش کی ترسیل مکمل طور پر بند ہو گئی ہے، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹروے پر صفائی مہم، سکھیکی کے بعد سیال، 11 کا معائنہ،4 معروف فوڈ آوٹ لیٹ سیل
انہوں نے مزید کہا کہ آج سے تمام بندرگاہوں پر امپورٹ اور ایکسپورٹ کا نظام بھی مکمل طور پر بند رہے گا، جس سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے اور چارٹر آف ڈیمانڈ کے مطابق ان کے مسائل حل کیے جائیں۔
تنویر احمد جٹ کے مطابق ٹوکن ٹیکس اور ٹرانسفر فیس میں حالیہ اضافہ واپس لیا جائے، جبکہ ناجائز ٹول پلازوں کو ختم کر کے ٹول ٹیکس میں کیا گیا اضافہ بھی واپس لیا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مزدا آکشن گاڑیوں کی ملکیت بحال کی جائے اور مزدا گاڑیوں کو دو ایکسل کا درجہ دیا جائے۔
ٹرانسپورٹرز رہنما کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہڑتال کے دوران حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا، جس کے باعث ٹرانسپورٹرز کو دوبارہ احتجاج پر مجبور ہونا پڑا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے تک ہڑتال جاری رہے گی، جبکہ حکومت سے فوری مذاکرات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔














