لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ پی ٹی آئی کو مینار پاکستان پر 5 اگست کو جلسے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا۔ جسٹس مرزا وقاص رؤف نے میاں عثمان اکرم کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جلسے کی اجازت نہ دینا آئین کے آرٹیکل 16 کی خلاف ورزی ہے، جبکہ جلسہ یا اجتماع کرنا شہریوں کا آئینی حق ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئین کا آرٹیکل 16 پُرامن اجتماع کی اجازت دیتا ہے، تاہم اسی آرٹیکل کے تحت جلسے کے لیے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے این او سی جاری کیا جائے گا۔
سرکاری وکیل کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت حساس اداروں کا اجلاس ہوا، جس میں جلسے کے حوالے سے امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر جلسہ نہ کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
تحریری فیصلے کے مطابق مینار پاکستان ایک عوامی جگہ ہے جہاں شہری سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر نے 3 اگست کو جلسے کی اجازت کی درخواست خارج کردی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے ڈپٹی کمشنر کے پاس جلسے کی اجازت کی درخواست پر جلد فیصلہ کرنے کی استدعا کی تھی، تاہم ڈپٹی کمشنر درخواست پر فیصلہ کرچکے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے درخواست پر فیصلہ کیا جاچکا ہے، اس لیے عدالت درخواست کو خارج کرتی ہے۔














