پنجاب حکومت نے 24 گھنٹوں میں صوبے بھر کی گلیوں سے پانی کیسے نکالا؟

وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیشِ نظر پی ڈی ایم اے پنجاب کی مون سون فلڈ کی صورتحال بارے فیکٹ شیٹ جاری کر دی گئی ہے۔ جس میں مون سون بارشوں کے باعث نقصانات کی تفصیل بھی شامل کی گئی ہے

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ راولپنڈی محمدی چوک میں 65، خوشاب اور گوجرانولہ میں 64، جوہرآباد میں 58, سرگودھا میں 57 اور چنیوٹ میں 33 ملی میٹر تک بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔جبکہ نارووال میں 29، منڈی بہاوالدین میں 20، اوکاڑہ میں 18، شیخو پورہ میں 15، حافظ آباد میں 12 اور فیصل آباد میں 10 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

فیکٹ شیٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں پیشگی انتظامات اور مشینری کی دستیابی کے باعث ریکارڈ بارشوں کے باوجود کم سے کم وقت میں نکاسی آب کو یقینی بنایا گیا۔ متعلقہ اداروں کی بروقت کارروائی کے باعث شہری علاقوں میں پانی کے جمع ہونے کے مسائل کو فوری حل کیا گیا۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر دریاوں ڈیمز اور بیراجز کی مسلسل نگرانی کا عمل جاری ہے۔دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔

ذرائع کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 96 فیصدجبکہ منگلا ڈیم میں 61 فیصد ہے۔ تھین ڈیم 50 فیصد، اقر پونگ ڈیم 47 فیصد اور بھاکڑا ڈیم میں پانی کی سطح 43 فیصد تک ہے۔

پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے گزارش کی ہے کہ موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ بچوں کا خیال رکھیں انہیں برساتی نالوں نشیبی علاقوں دریاؤں اور نہروں میں ہرگز مت نہانے دیں۔پی

اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں میں حادثات کے باعث 53 شہری جاں بحق ہوئے تھے اور 322 زخمی ہوئے تھے۔ڈی جی سیف انور جپہ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جا رہی ہیں۔

حکومت پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا ازالہ پالیسی کے مطابق کیا جائے گا، جبکہ پی ڈی ایم اے کنٹرول روم میں صورتحال کی نگرانی 24 گھنٹے جاری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے