من پسند آفیسرز کی تعیناتی یا قابل نام کی عدم دستیابی ، کئی روز سے خالی ایس ایس پی آپریشن ایس پی کینٹ آپریشن اور ایس پی ہیڈ کوارٹر کی نشستیں پر کیوں نہ ہوسکیں ؟

لاہور(پنجاب پوسٹ)پنجاب پولیس میں افسران کی کمی یا من پسند افسران کی تعیناتی سے متعلق معاملات کے باعث لاہور پولیس کے تین انتہائی اہم عہدے کئی روز سے خالی پڑے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لاہور پولیس میں ایس ایس پی آپریشنز، ایس پی کینٹ آپریشنز اور ایس پی ہیڈکوارٹرز کی اہم سیٹوں پر تاحال مستقل افسران تعینات نہیں کیے جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کے دو بڑے افسران کے درمیان ان اہم عہدوں پر تعیناتیوں کے حوالے سے معاملات طے نہ پا سکے، جس کے باعث تعیناتیوں کا عمل تاخیر کا شکار ہے۔

لاہور میں خالی سیٹوں پر افسران کی تعیناتی کے لیے دو نام آئی جی آفس بھجوائے گئے تھے، تاہم ان ناموں پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ذرائع کے مطابق ایس ایس پی آپریشنز لاہور کی سیٹ توقیر محمد نعیم کے تبادلے کے بعد خالی ہوئی۔ اس اہم عہدے کا اضافی چارج ایس پی ڈولفن لاہور بلال احمد کو سونپا گیا ہے۔اسی طرح ایس پی کینٹ آپریشنز لاہور اختر نواز کو اٹارنی جنرل پاکستان کے گھر چھاپہ مارنے کے معاملے کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا، جس کے بعد یہ سیٹ بھی خالی ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق ایس پی کینٹ انویسٹی گیشن لاہور مس راحیلہ اقبال کو ایس پی کینٹ آپریشنز کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایس پی ہیڈکوارٹرز لاہور کی سیٹ مس منزہ کرامت کے ایس پی سول لائن ڈویژن تبادلے کے بعد خالی ہوئی۔ اس عہدے کا اضافی چارج بھی ایس پی ڈولفن لاہور بلال احمد کے پاس ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور پولیس کے ان اہم عہدوں پر مستقل تعیناتی نہ ہونے کے باعث ایک ہی افسر کے پاس اضافی ذمہ داریاں بھی موجود ہیں۔ افسران کی تعیناتی کے معاملے پر اتفاق رائے ہونے کے بعد ہی خالی عہدوں پر مستقل تعیناتیوں کا امکان ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے