رشتہ دار کی ایک شرارت سے پورے خاندان کا شناختی کارڈ بلاک، فیملی ٹری میں افغان شہری کا نام کیسے شامل ہوا؟ شہری عدالت پہنچ گیا

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) لاہور ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک پاکستانی خاندان کو مبینہ طور پر افغان شہری قرار دے کر ان کے شناختی کارڈ اور بچوں کے ب فارم بلاک کر دیے گئے، جس کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ درخواست واجد ولی خان نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ اسرار الحق کے ذریعے دائر کی ہے، جبکہ وفاقی وزارت داخلہ اور چیئرمین نادرا کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق وہ اپنے خاندان کے تقریباً 30 افراد کے ساتھ ضلع قصور میں رہائش پذیر ہیں اور نادرا کی جانب سے ماضی میں تمام افراد کے شناختی کارڈ اور بچوں کے ب فارم باقاعدہ جاری کیے جا چکے تھے۔ تاہم سال 2021 میں نادرا نے مبینہ طور پر پورے خاندان کو افغان شہری قرار دے کر ان کے شناختی کارڈ اور ب فارم بلاک کر دیے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ شناختی دستاویزات کی بحالی کے لیے خاندان نے متعدد بار نادرا حکام سے رجوع کیا اور اپنے دادا کے دور سے متعلق تمام ضروری سرکاری دستاویزات بھی پیش کیں، مگر اس کے باوجود شناختی کارڈ اور ب فارم بحال نہیں کیے گئے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ شناختی دستاویزات بلاک ہونے سے خاندان بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بچوں کی تعلیم، علاج، بینکاری اور دیگر سرکاری معاملات شدید متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ایک بچے کو نویں جماعت میں داخلہ دلوانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اس کے پاس فعال شناختی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔

درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ افغان شہری میر اویس کو مبینہ ملی بھگت کے ذریعے خاندان کی فیملی ٹری میں شامل کیا گیا، حالانکہ اس کا خاندان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ درخواست گزار کے مطابق مذکورہ شخص سال 2023 میں افغانستان واپس جا چکا ہے، اس کے باوجود ان کے خاندان کی شناختی دستاویزات تاحال بحال نہیں کی گئیں۔

درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ نادرا کو شناختی کارڈ اور بچوں کے ب فارم فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ خاندان کو دوبارہ بنیادی شہری اور قانونی سہولیات میسر آ سکیں۔ عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ معاملے کا قانون کے مطابق جائزہ لے کر متاثرہ خاندان کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے