لاہور(پنجاب پوسٹ)کے چلڈرن ہسپتال میں پہلی سالانہ پیڈیاٹرک اپ ڈیٹ 2026 کانفرنس کا آغاز پریس بریفنگ سے ہوا، جس میں وائس چانسلر پروفیسر مسعود صادق، مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹیپو سلطان، امریکن پیڈیاٹرک چیپٹر (اپنا) کے صدر ڈاکٹر صفدر سلطان، ڈاکٹر محسنہ نور، پروفیسر جنید، پروفیسر سمعیہ اور دیگر ماہرین نے شرکت کی۔کانفرنس میں بچوں کی بیماریوں کے علاج، مقامی طبی تحقیق، یکساں گائیڈ لائنز اور جدید طبی طریقہ کار پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جبکہ ملک بھر اور بیرون ملک سے تقریباً 500 ماہر ڈاکٹروں نے شرکت میں دلچسپی ظاہر کی۔
پریس بریفنگ کے دوران وائس چانسلر پروفیسر مسعود صادق نے اعلان کیا کہ چلڈرن ہسپتال اب صرف بین الاقوامی ہیلتھ گائیڈ لائنز پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی ضروریات اور بیماریوں کے مطابق لوکل ریسرچ کو فروغ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی گائیڈ لائنز کی تیاری کا آغاز ایمرجنسی میڈیسن سے کیا جائے گا تاکہ پاکستان میں بچوں کو درپیش طبی مسائل کے مطابق مؤثر اور قابلِ عمل علاج فراہم کیا جا سکے۔
امریکن پیڈیاٹرک چیپٹر (اپنا) کے صدر ڈاکٹر صفدر سلطان نے کہا کہ وہ 2025-26 کے لیے تنظیم کی صدارت کر رہے ہیں اور امریکہ میں حاصل ہونے والے اپنے تجربات پاکستان کے ڈاکٹروں کے ساتھ شیئر کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں ہونے والی جدید طبی تحقیق کے ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے چلڈرن ہسپتال لاہور کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں تاکہ تحقیق، تربیت اور علاج کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ آئندہ ہر سال پیڈیاٹرک اپ ڈیٹ کانفرنس کا انعقاد لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ایم ڈی چلڈرن ہسپتال ڈاکٹر ٹیپو سلطان نے کہا کہ تمام چھوٹے اور بڑے ہسپتالوں میں بچوں کے علاج کے لیے یکساں گائیڈ لائنز متعارف کرائی جائیں گی تاکہ ہر مریض کو ایک ہی معیار کی طبی سہولت میسر ہو۔ ان کے مطابق واضح کیا جائے گا کہ کون سی دوا پہلے اور کون سی بعد میں استعمال کی جائے تاکہ علاج میں یکسانیت اور بہتری آئے۔ڈاکٹر محسنہ نور نے کہا کہ نئی گائیڈ لائنز کے نفاذ سے ملک بھر کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں بچوں کو یکساں معیار کا علاج فراہم کیا جا سکے گا۔
اس اقدام سے طبی عملے کو بھی علاج کے لیے ایک واضح اور مستند لائحہ عمل دستیاب ہوگا۔پروفیسر جنید نے کہا کہ پاکستان میں بچوں میں نمونیا اور ڈائریا عام بیماریاں ہیں، تاہم دمہ کے مریضوں کے لیے جدید اور مقامی گائیڈ لائنز کی اشد ضرورت تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بچوں میں جھٹکے (دوروں) کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے، اس لیے اس حوالے سے بروقت تشخیص، تحقیق اور مؤثر علاج ناگزیر ہے۔کانفرنس انتظامیہ کے مطابق اس بین الاقوامی نوعیت کی کانفرنس میں تقریباً 500 قومی و بین الاقوامی ماہرینِ اطفال اور ڈاکٹرز نے شرکت میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جہاں جدید تحقیق، طبی تجربات اور بچوں کی بیماریوں کے علاج سے متعلق مختلف سائنسی سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔













