70 فیصد طلبہ و طالبات ہر بار 2 سے 3 نمبروں سے کیوں فیل ہوتے ہیں؟ یو ایچ ایس پالیسیوں کیخلاف طلبا و طالبات سڑکوں پر نکل آئے

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) لاہور میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) کی پالیسیوں کے خلاف طلبہ و طالبات نے یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امتحانی اور پروموشن پالیسیوں پر فوری نظرِ ثانی کی جائے اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو مزید نقصان سے بچایا جائے۔

احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا تھا کہ یو ایچ ایس کی غلط منصوبہ بندی اور ناقص پالیسیوں کی سزا ہر بار طلبہ کو دی جا رہی ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر یونیورسٹی کا طالب علم مقررہ وقت پر ڈگری حاصل کر کے عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے، لیکن یو ایچ ایس ہر بیچ کے ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا رہی ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ موجودہ بیچ کے طلبہ کو پروموٹ کیا جائے تاکہ ان کا ڈیڑھ سال ضائع ہونے سے بچ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈگری حاصل کرنا ان کا بنیادی حق ہے اور یونیورسٹی طلبہ کو ان کے حق سے محروم نہ کرے۔

طلبہ نے سوال اٹھایا کہ اگر صرف 48 فیصد طلبہ کو پروموٹ اور 52 فیصد کو ڈیٹین کیا جا رہا ہے تو اس کی واضح اور شفاف وجوہات سامنے لائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی جانب سے امتحانات اور نتائج میں تاخیر کا خمیازہ طلبہ کو کیوں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ سپلیمنٹری امتحانات بروقت لیے جائیں تاکہ ہر طالب علم اپنے بیچ کے ساتھ اگلے سمسٹر میں ترقی کر سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یو ایچ ایس اپنی پالیسیوں اور انتظامی تاخیر کا بوجھ طلبہ پر ڈالنے کے بجائے نظام میں اصلاحات کرے۔

احتجاج میں شریک طلبہ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ تقریباً 70 فیصد طلبہ صرف دو سے تین نمبروں کی کمی کے باعث بار بار فیل ہو رہے ہیں، جس سے پالیسی پر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سالانہ نظامِ تعلیم میں طلبہ کو اس طرح ڈیٹین نہیں کیا جاتا تھا، تاہم سمسٹر سسٹم میں ہر بیچ کے تقریباً نصف طلبہ کو ڈیٹین کیے جانے کی پالیسی ناقابلِ فہم اور طلبہ کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ فوری طور پر طلبہ کے تحفظات دور کرے اور منصفانہ فیصلہ کرے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے