واٹس ایپ گروپ میں ایک سکرین شارٹ شئیر کرنا اوکاڑہ یونیورسٹی کی پروفیسر کو ایک لاکھ میں۔۔ کیوں پڑا؟

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) سیشن عدالت لاہور نے واٹس ایپ گروپ میں اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف مبینہ پوسٹر شیئر کرنے کے مقدمے میں اسسٹنٹ پروفیسر شہلا ہنی کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے ملزمہ کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت بھی جاری کر دی۔

ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی ملک نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ تفتیشی ادارے کو ملزمہ سے مزید کوئی برآمدگی درکار نہیں اور نہ ہی مزید تفتیش کی ضرورت ہے، اس لیے انہیں ضمانت کا ریلیف دیا جاتا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمے میں شامل واٹس ایپ اسکرین شاٹس اور دیگر مواد بظاہر سنگین نوعیت کا نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ موجودہ مرحلے پر ملزمہ کے خلاف ذاتی رنجش یا بدنیتی کی بنیاد پر جھوٹا مقدمہ درج کیے جانے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ملزمہ ایک تعلیم یافتہ خاتون اور تدریسی شعبے سے وابستہ ہیں، جبکہ مقدمے کے حقائق اور شواہد کا تفصیلی جائزہ باقاعدہ ٹرائل کے دوران لیا جائے گا، اس لیے اس مرحلے پر ضمانت دی جا سکتی ہے۔

سماعت کے دوران ملزمہ کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مدعی مقدمہ، اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین ہیں، جنہوں نے پولیس کے ساتھ مل کر ذاتی رنجش کی بنیاد پر جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی۔ وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے، لہٰذا ملزمہ کو ضمانت دی جائے۔

مقدمے کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی مدعیت میں اسسٹنٹ پروفیسر شہلا ہنی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ ملزمہ نے واٹس ایپ گروپ میں یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف مبینہ مہم چلائی اور قابل اعتراض مواد شیئر کیا۔ تاہم عدالت نے ابتدائی شواہد اور تفتیش کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمہ کی ضمانت منظور کر لی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے