لاہور(پنجاب پوسٹ)میں پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر نبیل طارق نے دیگر ٹرانسپورٹر رہنماؤں اور تاجر برادری کے نمائندوں کے ہمراہ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے فوری ریلیف کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے گڈز ٹرانسپورٹرز شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ گزشتہ برس دسمبر میں ہونے والی ہڑتال کے باوجود حکومتی اداروں کی جانب سے کیے گئے وعدے تاحال پورے نہیں کیے گئے، جس کے باعث ٹرانسپورٹرز ایک بار پھر احتجاج پر مجبور ہو رہے ہیں۔
نبیل طارق نے کہا کہ اس وقت پنجاب بھر کے گڈز ٹرانسپورٹرز اور تاجر برادری ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کا چارٹر آف ڈیمانڈ وہی ہے جو گزشتہ سال دسمبر میں پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ کاروباری حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ تقریباً ساٹھ فیصد گاڑیاں کھڑی ہو چکی ہیں اور متعدد ٹرانسپورٹرز اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسٹم ایکٹ آج بھی انگریز دور کے قوانین کے تحت چل رہا ہے، اگر کسی گاڑی میں نان کسٹم پیڈ سامان موجود ہو تو متعلقہ سامان کے خلاف کارروائی کی جائے، مگر پوری گاڑی ضبط کرنا ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی آنے جانے والے ٹول پلازوں پر اخراجات میں دس ہزار روپے تک اضافہ ہو چکا ہے، جس سے ٹرانسپورٹرز پر مزید مالی بوجھ پڑا ہے، لہٰذا ٹول پلازوں پر مبینہ زیادتیوں کا خاتمہ کیا جائے۔صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ ایکسل لوڈ قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا، البتہ جرمانوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح سات فیصد سے کم کر کے دو فیصد کی جائے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو ریلیف مل سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں جو لوگ پہلے گاڑیوں کے مالک تھے، آج ملازمت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں ٹرانسپورٹرز کے لیے مناسب اسٹینڈز موجود نہیں، جبکہ ٹوکن ٹیکس میں تین سو فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے جس نے کاروباری لاگت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی بحران میں حکومت کو کاروباری طبقے اور ٹرانسپورٹرز کے لیے خصوصی ریلیف پیکج دینا چاہیے۔نبیل طارق نے الزام عائد کیا کہ مختلف ادارے خصوصاً پیرا فورس ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرتی ہے، جبکہ کارپوریشن کے اہلکار بھی سامان اٹھا کر لے جاتے ہیں اور ان کا کوئی احتساب نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات پیدا کر دیے گئے ہیں کہ نوجوان نسل ملک میں کاروبار کرنے سے گریزاں ہے، لہٰذا حکومت فوری طور پر ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات تسلیم کرے تاکہ ٹرانسپورٹ اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے بچ سکیں۔













