2020 میں بیوی کو قتل کرنیوالا ملزم 2026 میں لاہور ہائیکورٹ نے بری کر دیا، فیصلے میں کیا لکھا ؟

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم تنویر کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے 19 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف جرم کو معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ مقدمہ مضبوط اور قابلِ اعتماد شواہد سے محروم ہے۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے طے شدہ اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ سسرال کے گھر میں پیش آنے والے جرائم کو ثابت کرنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے، اس لیے ایسے مقدمات میں تمام حالات و واقعات، شواہد اور ملزم کے طرزِ عمل کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔فیصلے کے مطابق اگر کوئی خاتون اپنے سسرالی گھر میں مردہ پائی جائے تو سب سے پہلے یہ تعین کرنا ضروری ہے کہ موت طبعی تھی یا غیر طبعی، اور اگر غیر طبعی ہو تو یہ دیکھا جائے کہ آیا وہ خودکشی تھی یا قتل۔ اس کے بعد وقوعہ سے قبل اور بعد کے حالات، ملزم کی موجودگی، متاثرہ خاتون سے قربت، رویے اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اس مقدمے میں مدعی اپنے الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس اور ناقابلِ تردید ثبوت پیش نہیں کر سکا، اس لیے ملزم کو شک کا فائدہ دیا جانا قانون کے مطابق ہے۔ چنانچہ عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے ملزم تنویر کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔

مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق ٹرائل کورٹ نے 2022 میں ملزم کو اپنی اہلیہ نسرین بی بی کے قتل کے جرم میں عمر قید اور چار لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، جبکہ تھانہ چنیوٹ پولیس نے 2020 میں قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر اپنی اہلیہ کو گلے میں دوپٹہ ڈال کر قتل کیا۔

مدعی کا مؤقف تھا کہ اس کی بہن کی شادی تنویر سے ہوئی تھی، جو جوئے کا عادی تھا۔ مدعی کے مطابق وقوعے سے چند روز قبل ملزم نے مقتولہ کی سونے کی بالیاں فروخت کر دی تھیں، جس پر دونوں میاں بیوی کے درمیان جھگڑا بھی ہوا تھا۔

دوسری جانب ملزم نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے کے وقت وہ ایک پیٹرول پمپ پر ڈیوٹی انجام دے رہا تھا اور اسے فون پر اطلاع ملی کہ اس کی اہلیہ کو گھر میں قتل کر دیا گیا ہے۔ ملزم کا کہنا تھا کہ اس کی اہلیہ کو نامعلوم افراد نے قتل کیا اور اسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے