لاہور،صوبائی دارلحکومت خواتین،بچوں اور لڑکیوں کیلئے کتنا محفوظ،7 ماہ میں درج مقدمات میں لرزہ خیز انکشافات

لاہور (پنجاب پوسٹ) شہر میں رواں سال کے دوران بچوں، لڑکیوں اور لڑکوں کے اغواء، زیادتی اور گینگ ریپ کے مجموعی طور پر 6092 مقدمات درج کیے گئے ہیں، جس سے شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ یہ انکشاف پولیس کے جاری کردہ اعداد و شمار میں سامنے آیا ہے۔

پولیس کے مطابق کم عمر بچوں کے اغواء کے 1162 مقدمات درج ہوئے، جن میں سب سے زیادہ کیسز کینٹ ڈویژن میں 310 رپورٹ ہوئے۔ صدر ڈویژن میں 224، ماڈل ٹاؤن میں 229 جبکہ سٹی ڈویژن میں 182 بچوں کے اغواء کے مقدمات سامنے آئے۔

اعداد و شمار کے مطابق لڑکیوں اور لڑکوں کے اغواء کے مجموعی طور پر 4070 مقدمات درج کیے گئے، جن میں کینٹ ڈویژن سرفہرست رہا جہاں 1092 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اسی طرح ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں خواتین اور مردوں کے اغواء کے 814 مقدمات درج کیے گئے۔

خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے 414 مقدمات بھی رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ کیسز صدر ڈویژن میں 106 سامنے آئے۔ کینٹ ڈویژن میں 90، ماڈل ٹاؤن میں 82 جبکہ اقبال ٹاؤن میں 66 مقدمات درج کیے گئے۔

بچوں کے ساتھ بدفعلی کے 386 مقدمات بھی سامنے آئے، جن میں کینٹ ڈویژن میں 96، صدر ڈویژن میں 81 اور ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں 62 کیسز رپورٹ ہوئے۔

مزید برآں، شہر میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران گینگ ریپ کے 54 مقدمات درج کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ کیسز کینٹ ڈویژن میں 18، ماڈل ٹاؤن میں 12 اور صدر ڈویژن میں 10 رپورٹ ہوئے۔

ذرائع کے مطابق انویسٹی گیشن ونگ کا ایس او ایس آئی یو سیل جنسی جرائم میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ ناقص تفتیش کے باعث گزشتہ تین سالوں کے دوران کسی بھی ملزم کو عدالتوں سے سزا نہیں دلوائی جا سکی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنسی درندگی اور اغواء کے متعدد مقدمات میں مطلوب ملزمان تاحال گرفتار نہیں کیے جا سکے، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے