لاہور(پنجاب پوسٹ)صوبائی دارالحکومت لاہور میں پانی کے دیرینہ بحران پر قابو پانے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں شہر کے پہلے سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے پی سی ون کی منظوری دے دی گئی ہے۔ سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے منصوبے کے پلان کی منظوری دے دی ہے، جبکہ اب اسے حتمی منظوری کے لیے ایکنک کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ لاہور میں پہلی مرتبہ سطحی پانی (Surface Water) کو پینے کے پانی کے متبادل اور پائیدار ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی بنیاد فراہم کرے گا۔
سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب نورالامین مینگل کی زیرِ صدارت ہونے والے اہم جائزہ اجلاس میں منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کے مختلف تکنیکی اور انتظامی مراحل مکمل کیے جا رہے ہیں، جبکہ سی ڈی ڈبلیو پی سے منظوری حاصل ہونے کے بعد اگلا مرحلہ ایکنک سے منظوری کا ہے۔
اجلاس کے دوران سیکرٹری ہاؤسنگ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کی باقی تمام منظوریوں اور قانونی تقاضوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ اس اہم منصوبے پر بروقت عملی کام شروع کیا جا سکے۔ انہوں نے اس منصوبے کو وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کا عملی مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت شہریوں کو صاف، محفوظ اور پائیدار پانی کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 54 ملین گیلن یومیہ گنجائش کا جدید سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بی آر بی نہر پر تعمیر کیا جائے گا، جس پر تقریباً 31 ارب روپے لاگت آئے گی۔ یہ منصوبہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سطحی پانی کو قابلِ استعمال بنایا جائے گا۔
نورالامین مینگل نے کہا کہ لاہور میں پہلی مرتبہ زیرِ زمین پانی پر انحصار کم کرکے سطحی پانی کو متبادل ذریعہ بنایا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی بہتر ہوگی بلکہ زیرِ زمین آبی ذخائر کے تحفظ میں بھی نمایاں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ہر سال 3 سے 5 فٹ گرتی ہوئی زیرِ زمین پانی کی سطح کو مستحکم کرنے میں بھی یہ منصوبہ اہم کردار ادا کرے گا۔
سیکرٹری ہاؤسنگ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں لاہور کے دیرینہ آبی مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جا رہا ہے، جبکہ جدید سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ اور پائیدار آبی وسائل کی فراہمی کی ضمانت ثابت ہوگا۔













