لاہور(پنجاب پوسٹ)ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ خان نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل آفس کے انتظامی اور ملازمین سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل نے دفتر کا متعلقہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے تاکہ زیر التواء معاملات، ملازمین کی ترقیوں اور الاؤنسز کے حوالے سے جامع جائزہ لیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آفس کے ملازمین کی ترقیوں کے دیرینہ مسئلے پر فیصلہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ملازمین کی سروس ریکارڈ، ترقیوں کے کیسز اور دیگر انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ میرٹ اور قواعد کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل آفس کے ملازمین کو دیے جانے والے الاؤنسز کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ ملازمین نے مطالبہ کر رکھا ہے کہ انہیں بھی دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین کی طرح سال 2026 کے مطابق الاؤنسز اور مراعات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے درمیان موجود تفاوت کو ختم کیا جا سکے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس کے ملازمین کی ترقیوں کا معاملہ سال 2015 سے زیر التواء چلا آ رہا ہے، جس کے باعث متعدد ملازمین طویل عرصے سے اگلے گریڈ میں ترقی کے منتظر ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ موجودہ انتظامیہ اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی اور ملازمین کے مطالبات کا جائزہ لینے کے بعد مناسب فیصلہ سامنے آئے گا۔













