لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب اسمبلی میں 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کے خلاف مذمتی قرارداد جمع کرا دی گئی۔ قرارداد چیف وہپ پاکستان مسلم لیگ (ن) رانا محمد ارشد نے جمع کرائی، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی فیصلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ایوان مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے اور کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستان کے پچیس کروڑ عوام ہر سطح پر اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
قرارداد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی قراردادوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں، کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلایا جائے، مقبوضہ جموں و کشمیر سے بھارتی فوجی قبضہ ختم کرایا جائے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔ قرارداد میں بھارت سے 5 اگست 2019 کے تمام یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں قائد مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف کو 2016 میں اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وفاقی کابینہ اور مسلح افواج کے مسئلہ کشمیر پر مؤقف کو سراہا گیا۔ قرارداد میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی، اخلاقی اور انسانی حمایت کے عزم کی بھی تعریف کی گئی اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت ملنے تک پاکستان ہر سطح پر ان کی حمایت جاری رکھے گا۔













