لاہور ( پنجاب پوسٹ ) لاہور سمیت پنجاب بھر میں چہلم حضرت امام حسینؑ کے موقع پر سکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ لاہور پولیس نے مجالس اور جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے 5 ہزار 500 سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات کر دیے ہیں، جبکہ صوبے بھر میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے 10 ہزار سے زائد ٹریفک افسران و اہلکار ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔
ترجمان لاہور پولیس کے مطابق چہلم کے موقع پر 73 مجالس اور 34 عزاداری جلوسوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے 12 ایس پیز، 28 ایس ڈی پی اوز، 80 ایس ایچ اوز، 403 سے زائد اپر سب آرڈینیٹس اور لیڈی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ شہر بھر میں 14 ایلیٹ فورس، 10 پی آر یو اور 20 ڈولفن اسکواڈ ٹیمیں مسلسل پٹرولنگ کر رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق مرکزی جلوس حویلی الف شاہ سے برآمد ہو کر اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ہوا کربلا گامے شاہ پر اختتام پذیر ہوگا۔ جلوسوں اور مجالس کے شرکاء کو چار درجاتی حصار پر مشتمل سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ تمام داخلی و خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز، خاردار تاریں اور جامع چیکنگ کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ سینئر پولیس افسران کنٹرول رومز سے سکیورٹی صورتحال کی مسلسل نگرانی کریں گے۔
سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے ہدایت کی ہے کہ تمام افسران اور اہلکار مجالس اور جلوسوں کے اختتام تک مکمل الرٹ رہیں، جبکہ پارکنگ کے مؤثر انتظامات اور متبادل راستوں کے ذریعے ٹریفک کی روانی ہر صورت برقرار رکھی جائے۔
دوسری جانب ٹریفک پولیس پنجاب نے بھی چہلم حضرت امام حسینؑ اور حضرت داتا علی ہجویریؒ کے سالانہ عرس کے تیسرے اور آخری روز کے موقع پر خصوصی ٹریفک پلان نافذ کر دیا ہے۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق لاہور میں مجالس، جلوسوں اور عرس کی تقریبات کے لیے 1500 ٹریفک اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ ملتان، راولپنڈی، گوجرانوالہ سمیت صوبے بھر میں ٹریفک انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر نے تمام سی ٹی اوز اور ڈی ٹی اوز کو ہدایت کی ہے کہ وہ خود فیلڈ میں موجود رہ کر ٹریفک انتظامات کی نگرانی کریں۔ سیف سٹی کیمروں کے ذریعے متبادل راستوں، پارکنگ اور ٹریفک کی روانی کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، جبکہ رونگ پارکنگ کے خاتمے کے لیے لفٹرز اور بریک ڈاؤن گاڑیاں بھی فیلڈ میں متحرک ہیں۔
ترجمان کے مطابق حضرت داتا علی ہجویریؒ کے عرس کے آخری روز زائرین کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر پارکنگ اور ٹریفک انتظامات مزید مؤثر بنائے گئے ہیں۔ ایمبولینس، ریسکیو اور دیگر ایمرجنسی گاڑیوں کے لیے خصوصی راستے ہر وقت کلیئر رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کریں، متبادل راستے استعمال کریں اور کسی بھی مشکوک شخص یا مشتبہ شے کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور پرامن ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔













