لاہور (پنجاب پوسٹ) محکمہ داخلہ پنجاب نے حضرت امام حسینؓ و رفقا کے چہلم اور حضرت داتا گنج بخشؒ کے عرس کے موقع پر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی کنٹرول روم کو 24 گھنٹے فعال رکھا ہے۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے محکمہ داخلہ کے مرکزی کنٹرول روم کا دورہ کیا، جہاں سپیشل سیکرٹری داخلہ فیصل فرید، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ عاصمہ اعجاز چیمہ، ایڈیشنل سیکرٹری انٹرنل سکیورٹی جویریہ مقبول اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں : چہلم امام حسین، پنجاب میں کتنی مجالس اور جلوس ہونگے، 18 اضلاع کیلئے رینجرز کی 43 کمپنیاں کیوں طلب کی گئیں؟
دورے کے دوران مرکزی کنٹرول روم سے حضرت داتا گنج بخشؒ کے عرس اور صوبے کے مختلف اضلاع میں چہلم کے جلوسوں اور مجالس کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری انٹرنل سکیورٹی جویریہ مقبول نے صوبہ بھر میں کیے گئے سکیورٹی اقدامات پر بریفنگ دی۔
بریفنگ کے مطابق پنجاب بھر میں چہلم کے موقع پر 869 مجالس اور 494 جلوس منعقد ہوں گے، جبکہ پولیس کی معاونت کے لیے مختلف اضلاع میں پاک فوج کی 15 اور رینجرز کی 28 کمپنیاں تعینات کی جائیں گی۔ سیکرٹری داخلہ نے مرکزی کنٹرول روم سے تمام ضلعی کنٹرول رومز سے رابطہ کر کے سکیورٹی صورتحال اور انتظامات کی رپورٹ بھی حاصل کی۔
اس موقع پر سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ امن و امان کا قیام اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ چہلم اور عرس کے موقع پر سکیورٹی سمیت تمام انتظامات مؤثر انداز میں یقینی بنائے جائیں اور متعلقہ ادارے محکمہ داخلہ کے جاری کردہ قواعد و ضوابط پر مکمل عملدرآمد کریں۔
مزید پڑھیں : چہلمِ حضرت امام حسین، محکمہ داخلہ پنجاب کی راولپنڈی سمیت صوبے بھر میں فول پروف انتظامات کی ہدایت
انہوں نے انتظامیہ، پولیس، محکمہ صحت، ریسکیو 1122، ٹریفک پولیس اور دیگر اداروں کو فیلڈ میں مکمل طور پر متحرک رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام زائرین اور عزاداروں کی بحفاظت واپسی تک ڈیوٹی پر مامور عملہ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتا رہے۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ محکمہ داخلہ کا سائبر پٹرولنگ سیل سوشل میڈیا پر فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس ضمن میں زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اتحاد بین المسلمین کے فروغ میں علماء کرام کے کردار کو بھی سراہا۔













